اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کی رہنما کنول شوزب نے کہا کہ حکومت کا پرویز مشرف کے کیس میں مداخلت کا کوئی جواز نہیں، حکومت صرف عدالتی حکم سے دخل اندازی کرسکتی ہے۔
پروگرام نیوز لائن میں بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ سابق صدر پاکستان پرویز مشرف مفرور نہیں تھے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت 34 قائمہ کمیٹیوں میں سے 17 کمیٹیاں اپوزیشن کو دی جا رہی ہیں۔

کنول شوزب کا کہنا تھا کہ لوگوں کو حقیقت بتانا میڈیا کا کام ہے، میڈیا کو عوام کو بتانا چاہیے کہ نئی حکومت کو مشکل فیصلے کیوں کرنے پڑ رہے ہیں۔
پروگرام میں موجود آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے رہنما ڈاکٹر امجد نے کہا کہ آج کی سماعت میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے طنزیہ انداز میں پرویز مشرف کوپکا گھر دینے کی بات کی تاہم چیف جسٹس کے باقی ریمارکس کافی اچھے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ وہ نئی حکومت سے پرویز مشرف کے کیس میں مداخلت نہ کرنے اور کیس کو سیاسی رخ نہ دینے کی امید رکھتے ہیں۔

ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف ملک واپس آئیں گے لیکن ان کو قید نہ کیا جائے بلکہ اگر سزا بنتی ہے تو دی جائے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری عدالت میں پیش ہوتے ہیں کیونکہ ان کا ٹرائل چل رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی کیس میں مسئلہ تب ہوتا ہے جب بندہ فرار ہو جائے۔

سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ دنیا کے قوانین میں چیزیں متفقہ طور پر کی جاتی ہیں، نہیں جانتے کہ پی ٹی آئی پرانے طریقوں پر چلے گی یا نئے انداز سے۔
پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنما کیس مل کھیل داس نے کہا کہ ملک کے آئین سے زیادہ اہم کچھ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز شریف سب کچھ جانتے ہوئے بھی اپنی بیمار بیوی کو چھوڑ کر وطن واپس آئے تو پرویز مشرف کیوں نہیں آتے۔

رہنما ن لیگ نے بتایا کہ شہباز شریف وہ لیڈر ہیں جنھوں نے پنجاب کو بنایا، ملک کی ترقی میں ان کا بڑا ہاتھ ہے۔
