اسلام آباد: الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 25 جولائی کے عام انتخابات میں ‘ناکام’ ہونے والے ریزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم (آر ٹی ایس) کو ایک بار بھر 14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ذرائع کے مطابق نادرا نے 36 حلقوں میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لیے آر ٹی ایس کے حوالے سے تیاری مکمل کر لی۔ عام انتخابات میں آر ٹی ایس سسٹم ناکام ہونے کے باعث نادرا اور الیکشن کمیشن کو خفت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ الیکشن میں آر ٹی آیس کی ‘ناکامی’ کی وجوہات معلوم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک تحقیقاتی کمیٹی بھی بنائی ہے۔
14 اکتوبر کے ضمنی انتخابات میں پہلی بار 7410 بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار انٹرنیٹ ووٹنگ سسٹم متعارف کرایا گیا ہے جس سے اوورسیز پاکستانیوں کو حق رائے دہی کا موقع ملے گا۔
بیلٹ پیپرز کی چھپائی شروع
دوسری طرف الیکشن کمیشن نے بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا عمل شروع کر دیا۔ ضمنی انتخابات کے لئے بیلٹ پیپرز کی چھپائی سرکاری پرنٹنگ پریس میں ہو رہی ہے۔ بیلٹ پیپرز رینجرز اور ایف سی کی نگرانی میں چھاپے جا رہے ہیں۔
الیکشن کمیشن حکام کے مطابق 36 حلقوں کے لئے 95 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان اور سندھ کے لئے 11 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے جبکہ پنجاب اوراسلام آباد کے لئے 67 لاکھ بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہو گی۔ خیبرپختونخواہ کے حلقوں کے لئے 17 لاکھ بیلٹ پیپرز چھاپے جائیں گے۔
بلوچستان اورسندھ کے بیلٹ پیپرز نیشنل سیکیورٹی پرننٹنگ پریس میں چھاپے جا رہے ہیں جبکہ پنجاب اوراسلام آباد کے بیلٹ پیپرز پوسٹ فاؤنڈیشن پرنٹنگ پریس میں چھاپے جا رہے ہیں۔ خیبرپختونخواہ کے حلقوں کے بیلٹ پیپرز پرنٹنگ پریس کارپوریشن میں چھاپے جا رہے ہیں۔
قومی اسمبلی کے 11 صوبائی اسمبلی کے 25 حلقوں میں پولنگ 14 اکتوبر کو ہو گی۔
