اسلام آباد: سپریم کورٹ نے دادو سندھ میں نئی گنج ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست قابل سماعت قرار دے دی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان میں نئی گنج ڈیم کی تعمیر سے متعلق دائر درخواست کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے وفاق، سندھ اور بلوچستان حکومت، پلاننگ کمیشن، واپڈا اور واٹر کمیشن کو نوٹسز جاری کر دیے۔
درخواست گزار کے وکیل رشید اے رضوی نے مؤقف اختیار کیا کہ نئی گنج ڈیم کی تعمیر میں حکومت سندھ کے پاس پیسے ہی نہیں ہیں جب کہ بلوچستان کی پہاڑیوں سے دادو تک یہ ڈیم تعمیر ہونا ہے۔
چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ڈیم کی تعمیر پر کتنے پیسے درکار ہیں ؟
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ ڈیم کی تعمیر کے لیے چھ ارب روپے درکار ہیں۔ جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیے کہ اس ڈیم کی تو کل لاگت دس ہزار ملین ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ ڈیم کا معاملہ ہے اور یہ ہماری ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
عدالت نے نئی گنج ڈیم کی تعمیر سے متعلق درخواست کو قابل سماعت قرار دیتے ہوئے تمام فریقین کو نوٹس جاری کردیے۔
