اسلام آباد: وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) کے سربراہ بشیر میمن نے تطہیر بنت پاکستان کیس میں لڑکی کے والد کے اثاثوں کی تفصیلات سپریم کورٹ میں جمع کرادی ہیں۔
عدالت عظمیٰ کے تین رکنی بینچ نے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں پیر کے روز معاملہ کی سماعت کی۔
ڈی جی ایف آئی نے عدالت کو بتایا کہ تطہیر فاطمہ کے والد کے اثاثوں کی چھان بین کی گئی جس سے معلوم ہوا ہے کہ والد کی ماہانہ آمدن 20 سے 25 ہزار روپے ہے۔
عدالت کو بتایا گیا کہ تطہیر فاطمہ کے والد نے عیسائی سے مسلمان ہونے والی خاتون سے دوسری شادی کر رکھی ہے۔ والد کی ملکیت میں ایک دکان بھی شامل ہے۔
بینچ کے سربراہ نے ڈی جی ایف آئی سے مکالمے میں کہا کہ ڈی جی صاحب عدالت آپ پر ذیادہ بوجھ نہیں ڈال رہی۔ بشیر میمن نے جواب دیا کہ یہ میرے لیے اعزاز کی بات ہے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کچھ شرعی قوانین بھی ہیں، مخدوم علی خان کو اس کیس میں معاون مقرر کردیا گیا ہے۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت دس روز کے لیے ملتوی کردی۔
