لاہور: وزیراعظم عمران خان نے ہدایت کی ہے کہ نئے بلدیاتی نظام کو آئندہ 48 گھنٹوں میں حتمی شکل دی جائے۔
ہم نیوز کے مطابق انہوں نے یہ ہدایت اپنی زیرصدارت منعقدہ ایک اعلیٰ سطحی اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے دیے۔ اجلاس میں گورنر پنجاب چودھری غلام سرور، گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار، وفاقی وزریراطلاعات ونشریات فواد چوہدری اوردیگر اعلیٰ حکومتی شخصیات نے شرکت کی۔
اعلیٰ سطحی اجلاس سے صدارتی خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اختیارات کونچلی سطح تک منتقل کرنا پاکستان تحریک انصاف حکومت کا سب سے اہم ایجنڈا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پی ٹی آئی کا مقصد عوام کوحقیقی معنوں میں بااختیار بنانا ہے۔
ہم نیوز کے مطابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ نئے بلدیاتی نظام میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ عوام اپنے نمائندوں کا مؤثر احتساب کرسکییں۔
ان کا کہنا تھا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی سے اور لوکل باڈیز نظام کے قیام سے نئی لیڈرشپ کو اوپر آنے کا موقع ملتا ہے۔
سابقہ حکومتوں کا ذکرکرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ماضی میں اراکین پارلیمنٹس کی توجہ قانون سازی کے بجائے حصول فنڈز پر زیادہ مرکوز رہی۔
پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرائے جانے والے بلدیاتی نظام کے متعلق انہوں نے کہا کہ نئے بلدیاتی نظام کا مقصد اسٹیٹس کوکا خاتمہ ہے۔
وزیراعظم عمران خان نے واضح کیا کہ ایسا بلدیاتی نظام لایا جائے گا جس میں عوامی نمائندوں کو بلیک میل نہ کیا جا سکے اوربلدیاتی نمائندے اپنی ساری توجہ عوام کی فلاح و بہبود پر مرکوز کرسکیں۔
ہم نیوز کے مطابق وزیراعظم جب ایک روزہ دورے پر لاہور پہنچے تووزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اوروزیربلدیات علیم خان نے نئے بلدیاتی نظام پر انہیں بریفنگ دی۔ انہیں حکومت پنجا ب کی جانب سے وضع کردہ 100 روزہ منصوبے سے بھی آگاہ کیا گیا۔
