کراچی: آج چیف جسٹس آف پاکستان سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں اربوں روپے کی کرپشن اور نکاسی آب کے منصوبوں کی ابتر صورتحال سمیت متعدد اہم مقدمات کی سماعت کی۔
چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ مقدمات کی سماعت کر رہا ہے، بینچ میں جسٹس فیصل عرب اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔
شرجیل میمن کے کمرے سے شراب ملی، چیف جسٹس
ہفتہ کے روز پہلے سے طے کسی شیڈول کے بغیر چیف جسٹس آف پاکستان نے کلفٹن میں واقع ضیاء الدین اسپتال کا ہنگامی دورہ کیا۔ اس دوران سیکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کی دوڑیں لگ گئیں۔
طبی مرکز پہنچنے کے بعد چیف جسٹس محکمہ اطلاعات میں اربوں روپے کی بدعنوانی کے مقدمہ کا سامنا کرتے پیپلزپارٹی رہنما اور سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن کا کمرے میں گئے، جہاں کچھ دیر ان سے گفتگو بھی کی۔
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری پہنچنے کے بعد ریمارکس کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ شرجیل میمن کے کمرے سے تین شراب کی بوتلیں ملیں۔ اٹارنی جنرل کہاں ہیں؟ جائیں دیکھیں، انور منصور خان صاحب ذرا اس طرف بھی توجہ دیں، آپ نے بہت اچھے کام کیے، مگر یہ دیکھیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ شرجیل میمن کے کمرے سے تین بوتلیں ملیں، جب شرجیل سے پوچھا تو کہا کہ میری نہیں ہیں۔
چیف جسٹس طبی مراکز کے ہنگامی دوروں کے دوران این آئی سی وی ڈی بھی گئے، جہاں انہوں نے منی لانڈرنگ مقدمہ میں نامزد اومنی گروپ کے چیئرپرسن انور مجید کے کمرے کا معائنہ کیا۔
شہری پر تشدد کرنے والے تحریک انصاف کے رکن اسمبلی عدالت میں
پی ٹی آئی ایم پی اے عمران علی شاہ شہری پر تشدد کرنے کے معاملہ میں چیف جسٹس کے روبرو پیش ہوئے۔ عدالت عظمی کے سربراہ نے انہیں کہا کہ آپ اپنے وکیل کو بیٹھا دیں خود روسٹرم پر آجائیں۔
چیف جسٹس نے عمران علی شاہ سے استفسار کیا کہ آپ یہ بتائیں کہ آپ نے کتنے تھپڑ مارے تھے؟ پی ٹی آئی رکن اسمبلی نے کہا کہ میں نے تین سے چار تھپڑ مارے تھے۔
چیف جسٹس نے ان سے استفسار کیا کہ آپ انسان کو انسان نہیں سمجھتے؟ آپ کی ویڈیو یہاں چلائی جائے گی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انہوں نے بچپن میں اپنے ملازم کو پیٹا تھا تو والد صاحب نے ملازم سے مجھے پٹوایا تھا، جب ملازم مجھے مجھے مار مار کر تھک گیا تو والد صاحب نے مجھے خود بھی مارا۔
چیف جسٹس نے پی ٹی آئی رکن اسمبلی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ مجھے آنکھیں نہ دکھائیں، یہ عدالت ہے۔ آپ اپنی سوتیلی والدہ کو بھی حراساں کرتے رہے ہیں یہ معاملہ بھی دیکھتے ہیں۔
مہران ٹاؤن کے مکینوں کی چیف جسٹس سے اپیل
سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس ثاقب نثارکی آمد پر عدالت کے باہر مہران ٹاون کے مکینوں کی جانب سےاحتجاج کیا گیا۔ مکینوں کا کہنا تھا کہ مہران ٹاون میں کے ڈی اے افسران، پولیس، قبضہ مافیا سرگرم ہے، جعلی فائلوں کی آڑ میں ہمیں بےگھر کیا جارہا ہے۔
احتجاج کرنے والے افراد کا کہنا تھا کہ پولیس کی جانب سے عورتوں اور بچوں پر تشدد کیا جارہا ہے۔
سندھ میں نکاسی آب کے منصوبوں کے منصوبوں کی ابتر صورتحال، اربوں روپے کریشن نوٹس کیس، زمینوں پر قبضے، انسانی اعضاء کی غیر قانونی پیوند کاری نوٹس کیس بھی سماعت کے لیے مقرر ہیں۔
ماحولیاتی آلودگی، کراچی میں درجنوں انسانوں کی موت کا سبب بننے والے سانحہ 12 مئی کا مقدمہ بھی سماعت کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔
چیف سیکرٹری سندھ، مئیر کراچی اور سیکرٹری صحت کو عدالت میں پیشی کے لیے نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔
عدالت عظمی میں فٹ پاتھ اسکول کو ہٹانے اور سندھ میں اربوں روپے کی کرپشن سے متعلق کیسز کی بھی سماعت ہوگی۔
سندھ پولیس کے سربراپ، قومی احتساب بیورو نیب کے پراسیکیوٹر، اٹارنی جنرل آف پاکستان اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو بھی نوٹس جاری کیے گئے ہیں۔
