اسلام آباد: انتخابی شیڈول کے مطابق صدارتی انتخابی ریس سے دستبرداری کا آج آخری روز ہے، حکومتی بینچوں کو ٹف ٹائم دینے کی خواہاں اپوزیشن کی تقسیم ابھی تک برقرار ہے۔
پاکستان کے آئندہ صدر کے لیے چار ستمبر کو منعقد ہونے والے انتخابات میں حصہ لینے کے خواہشمند چار امیدوار میدان میں موجود ہیں۔ تحریک انصاف کے عارف علوی، پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن اور دیگر اپوزیشن جماعتوں کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمن ہیں جب کہ ن لیگ نے امیر مقام کو کورنگ امیدوار کے طور پر میدان میں اتار رکھا ہے۔
ایوان صدر کے آئندہ مکین کا فیصلہ کرنے کے لیے میدان میں اترنے والے تمام امیدوار انتخابی مہم جاری رکھے ہوئے ہیں تاہم آج یہ واضح ہو جائے گا کہ مقابلہ کے لیے کتنے امیدوار میدان میں اترتے ہیں۔۔
پیپلزپارٹی اعتزاز احسن کو سامنے لائی لیکن دیگر اپوزیشن جماعتوں نے اسے بغیر مشاورت کیا گیا فیصلہ قرار دے کر ماننے سے انکار کر دیا۔ کہا گیا کہ امیدوار تبدیل کیا جائے تو بات آگے بڑھ سکتی ہے لیکن پی پی پی نے اعتراز احسن ہی کو امیدوار رکھنے پر اصرار جاری رکھا۔
معاملہ حل نہ ہوا تو ن لیگ، مجلس عمل سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں نے فضل الرحمان کو میدان میں اتار دیا جس کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے کے امیدوار کو دستبردار ہونے کے مشورے دیے جا رہے ہیں۔
میدان میں موجود امیدواروں نے ووٹ حاصل کرنے کے لیے رابطے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے صدارتی انتخابات میں ڈاکٹر عارف علوی کی غیر مشروط حمایت کا اعلان کیا تو پی ٹی آئی امیدوار نے کہا کہ تحریک انصاف اپنے وعدے پورے کرے گی۔
وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال نے کوئٹہ میں ڈاکٹر عارف علوی کے ہمراہ صحافیوں سے گفتکو کرتے ہوئے کہا کہ بی اے پی اور پی ٹی آئی بلوچستان کے مسائل کے حل اور صوبے کی ترقی کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاق اپنا کردار ادا کرے، صوبے تعاون کریں گے۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے مولانا فضل الرحمان کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ وہ جس پارلیمنٹ کو بوگس کہتے ہیں انہی کے ووٹوں سے صدر بننا چاہتے ہیں۔
جمعیت علماء اسلام ف کے رہنما مولانا عطا الرحمان نے معاملہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کے بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔
انتخابی رابطوں کے سلسلے میں مولانا فضل الرحمان نے کراچی میں مسلم لیگ فنکشنل اورایم کیوایم کے رہنماؤں سےملاقات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی سےمطمئن ہو کر جا رہا ہوں۔
جے یوآئی ف کے سربراہ نے کہا کہ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کو مشاورت کے لیے بھرپور موقع دیا۔ اعتزاز احسن قابل احترام ہیں اور آصف زرداری سے دوستی ڈھکی چھپی نہیں۔
صدارتی انتخابات کے معاملہ پر سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اپوزیشن نے مشترکہ امیدوار کا فیصلہ نہ کیا تو اس کا فائدہ حکومتی امیدوار ڈاکٹر عارف علوی کو ہو گا۔
