اسلام آباد: پاکستان مسلم لیگ نون کے رہنما خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ حلف لینے کے بعد شہباز شریف کی زیر صدارت ایک اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ ہم سید خورشید احمد شاہ کو نہیں بلکہ دھاندلی کے خلاف جدوجہد کو ووٹ دیں گے۔
’ہم نیوز‘ کے پروگرام ’بڑی بات‘ میں میزبان عادل شاہ زیب سے گفتگو کرتے ہوئے لیگی رہنما نے کہا کہ عام انتخابات میں عوام کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، نون لیگ اور پیپلز پارٹی سنگل پوائنٹ ایجنڈے پر اکٹھی ہوئی ہیں اور وہ ہے صاف شفاف انتخابات پر پہنچنا، آصف زرداری کے پاس یہ ثابت کرنے کا موقع ہے کہ یہ پارٹی شہید بے نظیر کے نظریے پر چل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی قیادت میں نون لیگ کے تمام منتخب امیدوار نواز شریف کے حق میں احتجاج کریں گے، اس کے بعد ہم پارلیمان جائیں گے، شہباز شریف ثابت کریں گے کہ وہ عوام کی خدمت کی ذمہ داری احسن طریقے سے پوری کریں گے۔
پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ سیکرٹ بیلٹ کی تاریخ میں ہمیشہ شک رہا ہے لیکن ہمارے امیدوار کل اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے نہیں لگ رہا کہ خورشید شاہ ہمارے لیے کوئی بڑا چیلنج ہوں گے، اپوزیشن کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کوئی نظریاتی اتحاد نہیں، صرف ایک نکتے پر اکٹھے ہوئے ہیں اور وہ دھاندلی ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کے ساتھ اتحاد پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی بھی دو مختلف پارٹیاں ہیں، ہمارا اتحاد بنیادی طور پر کراچی کے مسائل کے حل کے لیے ہے، ایک موثر بلدیاتی نظام اور پینے کے پانی کی فراہمی جیسے مسائل ہمارے اتحاد کی ایک وجہ ہیں۔
ایوا زوبیک کا رقص، سوشل میڈیا پر موضوع بحث:
تجزیہ کار عامر احمد خان کا کہنا تھا کہ معیشت ہو، تعلیمی نظام یا صحت، پاکستان مسائل سے دوچار ہے، ایسے میں ایک ایسی بچی جو پاکستان آ کر خوشی محسوس کرے، اس کی اس حرکت پر شوکاز نوٹس جاری کرنا افسوس ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم ابھی تک فیصلہ ہی نہیں کر پائے کہ ہمارا خوشی منانے کا طریقہ کیا ہے، موٹرسائیکل کے سائلنسر ہٹا کر شور مچا کر آزادی منانا ٹھیک ہے لیکن موسیقی اور رقص کے ذریعے خوشی منانا غلط ہے۔
عامر احمد خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مثبت چہرہ دکھانے والی بچی کو نوٹس جاری کرنا افسوس ناک ہے، ہمیں چیئرمین نیب کا بھی شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ ان کی وجہ سے یہ بچی سامنے تو آئی۔
