لندن: برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا ہے کہ ایران سے متعلق جاری کشیدگی برطانیہ کی جنگ نہیں ہے۔ اور ان کا ملک اس تنازع کا حصہ نہیں بنے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا کہ اپوزیشن کے پاس جنگ کے ممکنہ اثرات سے نمٹنے کے لیے کوئی مؤثر منصوبہ موجود نہیں تھا۔ اور ان کی ناقص حکمت عملی ملک کو بڑے بحران میں دھکیل سکتی تھی۔
انہوں نے نے ٹوری پارٹی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پارٹی کا رویہ مسلمانوں کے حوالے سے امتیازی ہے۔ جبکہ دیگر مذاہب کے تہوار پر کبھی اعتراض نہیں کیا جاتا۔
برطانوی وزیر اعظم نے کہا کہ ٹریفالگر اسکوائر میں ہندو، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے تہوار باقاعدگی سے منعقد ہوتے ہیں۔ لیکن ٹوری پارٹی صرف اس وقت اعتراض کرتی ہے جب مسلمان اپنے مذہبی تہوار یا عبادات ادا کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: اسپین ڈٹ گیا، امریکی صدر کی دھمکیاں مسترد کر دیں
انہوں نے کہا کہ یہ طرزعمل امتیازی ہے اور اسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ٹوری پارٹی بعض اوقات نسل پرست عناصر کے مؤقف کی حمایت کرتی دکھائی دیتی ہے۔
