میڈرڈ: اسپین نے ایران پر حملوں میں استعمال ہونے والے امریکی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جو اس سے قبل مشترکہ فوجی اڈوں کے استعمال سے انکار کے بعد ایک مزید سخت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق اسپین کی وزیر دفاع مارگاریتا روبلیس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کا ملک ایران پر حملوں کے لیے نہ تو اپنے فوجی اڈوں کے استعمال کی اجازت دے گا۔ اور نہ ہی اپنی فضائی حدود فراہم کرے گا۔
یہ اقدام اسپین کی حکومت کے اس مؤقف کا تسلسل ہے جس کے تحت اس نے اعلان کیا تھا کہ وہ اس جنگ میں حصہ نہیں لے گا۔ اور نہ ہی کسی قسم کا تعاون کرے گا۔ کیونکہ اس کے بقول یہ کارروائیاں بین الاقوامی قانون کے خلاف ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فضائی حدود بند ہونے کے بعد امریکی اور اتحادی فوجی طیاروں کو اہداف تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرنا ہوں گے۔ تاہم یہ پابندی ہنگامی پروازوں پر لاگو نہیں ہو گی۔
اسپین کے وزیر اعظم پیڈرو سانچیز پہلے ہی امریکی اور اسرائیلی حملوں کو غیر ذمہ دارانہ اور غیر قانونی قرار دے چکے ہیں۔ اور اس معاملے پر واضح مخالفت کا اظہار کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے معاہدہ نہ کیا اور آبنائے ہرمز نہ کھولی تو سنگین نتائج کیلئے تیار رہے، ٹرمپ کی دھمکی
سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسپین نے امریکی افواج کو اپنے فوجی اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہ دی تو واشنگٹن تجارتی تعلقات پر نظر ثانی کر سکتا ہے۔ تاہم ہسپانوی حکومت نے ان دھمکیوں کو مسترد کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر قائم رہنے کا عندیہ دیا ہے۔
