مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ اس لیے اس وقت پوری اسلامی دنیا کو ایک اسلامی بلاک بنانا چاہیے، اسلامی ممالک اکٹھے ہوں اور اس حوالے سے پوری اسلامی دنیا اپنے لیے ایک سمت متعین کرے۔
امیر جے یوآئی مولانا فضل الرحمان کی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ساری جنگ عرب ممالک کو عبور کرتے ہوئے ایران تک پہنچائی گئی ہے۔
اگرایران میں انہیں کامیابی حاصل ہو جاتی ہے تو پورے خطے پراسرائیلی اور صہیونی بالادستی ناگزیر ہو جائے گی، ایران، اسرائیل اور امریکہ کا تنازع دراصل فلسطین اور اسرائیل کی جنگ کا ایک تسلسل ہے۔
قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں، صدر مملکت
انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا کو سیاسی، باہمی تجارت اور دفاعی حوالے سے ایک مشترکہ معاہدہ کرنا چاہیے، اسی طرح صہیونیت اوراسرائیلی توسیع پسندی کا راستہ بھی روکا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اس وقت خطے میں مثبت کردارادا کررہا ہے،اس پیچیدہ صورتحال اور فیصلوں کے حوالے سے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا چاہیے، ایوان کو اعتماد میں لیا جائے اور ان کیمرہ اجلاس بلایا جائے۔
مذاکرات کے حوالے سے پاکستان نے میزبانی کی ہے جو پاکستان کے لیے ایک اعزاز ہے، مصر، ترکی اور سعودی عرب اس میں شریک ہوئے ہیں، تو ظاہر ہے کہ اسلامی دنیا کے یہ بڑے ممالک ہیں اوراتنے بڑے ممالک کے باہمی رابطے سے اسلامی دنیا کے لیے ایک متوازن سوچ ان شاء اللہ پیدا ہوگی۔
