ایران کے شہر بندر عباس میں میزائل حملے میں شہید ہونے والے کراچی کے نوجوان یاسر خان کی میت پانچ روز گزرنے کے باوجود پاکستان منتقل نہ ہو سکی، جس پر اہل خانہ شدید کرب میں مبتلا ہیں۔
ذرائع کے مطابق یاسر خان گزشتہ چھ ماہ سے روزگار کے سلسلے میں ایران میں مقیم تھا، 23 مارچ کی شب جب حملہ ہوا تو وہ ایک ٹگ بوٹ پر موجود تھا، اور حملے کے نتیجے میں وہ شہید ہو گیا۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ یاسر چھ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا اور اس کا تین سالہ بیٹا بھی ہے۔ ان کی اچانک موت نے خاندان کو صدمے میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ میت کی واپسی میں تاخیر نے دکھ کو مزید بڑھا دیا ہے۔
لواحقین کے مطابق اب تک حکومتی سطح پر مؤثر اقدامات سامنے نہیں آئے، جس کے باعث وہ خود مختلف ذرائع سے میت کی واپسی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی نے اہل خانہ سے رابطہ کیا ہے، جبکہ بلوچستان حکومت سے تافتان بارڈر کے ذریعے میت کی منتقلی کیلئے کہا گیا ہے، تاہم تاحال کوئی حتمی پیشرفت نہیں ہو سکی۔
اہل خانہ نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وزارت خارجہ فوری مداخلت کرے اور سفارتی اقدامات کے ذریعے میت کی جلد واپسی یقینی بنائے تاکہ یاسر خان کو اپنے آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا جا سکے۔
