پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں پیر کے روز شدید مندی دیکھی گئی، جہاں ابتدائی لمحات میں ہی کے ایس ای 100 انڈیکس 3700 سے زائد پوائنٹس گر گیا، جس کی بڑی وجہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور طویل جنگ کے خدشات ہیں۔
صبح 9:40 بجے انڈیکس 147,950.31 پوائنٹس کی سطح پر آ گیا، جو 3,757.20 پوائنٹس یا 2.48 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ مارکیٹ میں آٹو موبائل، سیمنٹ، بینکنگ، آئل اینڈ گیس، پاور اور ریفائنری سیکٹرز میں فروخت کا دباؤ نمایاں رہا۔
اہم کمپنیوں کے شیئرز، جن میں ARL، HUBCO، MARI، OGDC، PPL، HBL، MEBL، MCB اور NBP شامل ہیں، سب منفی زون میں ٹریڈ کرتے رہے، جس سے مجموعی مارکیٹ پر دباؤ بڑھا۔
ماہرین کے مطابق سرمایہ کاروں کا اعتماد اس وقت متاثر ہو رہا ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں ایران سے متعلق تنازع طول پکڑتا دکھائی دے رہا ہے، جبکہ عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں تیزی اور مہنگائی کے خدشات بھی مارکیٹ پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
گزشتہ ہفتے بھی مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار رہی اور 100 انڈیکس 1,032 پوائنٹس کی کمی کے ساتھ 151,707 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
عالمی منڈیوں میں بھی منفی رجحان دیکھا گیا، جہاں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ جاپان کا نکئی انڈیکس تقریباً 4.7 فیصد گر گیا، جبکہ دیگر بڑی مارکیٹس بھی دباؤ میں رہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی تو پاکستان سمیت عالمی اسٹاک مارکیٹس مزید دباؤ کا شکار رہ سکتی ہیں۔
