عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، کیونکہ تیل کی قیمتوں میں تیزی نے مہنگائی کے خدشات بڑھا دیے ہیں اور فیڈرل ریزرو کی جانب سے شرح سود میں کمی کی توقعات کمزور پڑ گئی ہیں۔
اسپاٹ گولڈ 0.6 فیصد کمی کے بعد 4,466 ڈالر فی اونس پر آ گیا، جبکہ ماہانہ بنیاد پر سونا 15 فیصد سے زائد گر چکا ہے، جو 2008 کے بعد سب سے بڑی کمی ہے۔ ماہرین کے مطابق امریکی ڈالر کی مضبوطی بھی سونے کی گراوٹ کی بڑی وجہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کے باعث شرح سود کم کرنے کی گنجائش محدود ہو گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرمایہ کار اب اس سال شرح سود میں کمی کے امکانات کم دیکھ رہے ہیں۔
دوسری جانب برینٹ کروڈ آئل 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا، جس کی بڑی وجہ یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے حملے اور مشرق وسطیٰ میں پھیلتی کشیدگی ہے۔ مارچ کے دوران تیل کی قیمتوں میں تقریباً 60 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہرین کے مطابق عام طور پر مہنگائی سونے کی طلب بڑھاتی ہے، لیکن بلند شرح سود سونے جیسے غیر منافع بخش اثاثوں کو کم پرکشش بنا دیتی ہے۔
دیگر دھاتوں میں چاندی 1.3 فیصد سستی ہوئی، جبکہ پلاٹینم اور پیلیڈیم کی قیمتوں میں معمولی اضافہ دیکھا گیا۔
