امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات میں پیشرفت ہو رہی ہے اور جلد کسی معاہدے کا امکان ہے۔
برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کو انٹرویو میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے ساتھ براہ راست اور بالواسطہ دونوں سطحوں پر بات چیت کر رہا ہے اور مذاکرات مثبت سمت میں جا رہے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی جانب سے پاکستانی پرچم بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی گئی ہے، جس کے بعد گزرنے والے جہازوں کی تعداد 20 تک پہنچ گئی۔
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر ایران کے اہم تیل برآمدی مرکز خارگ جزیرے پر قبضہ کر سکتا ہے۔ ان کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی۔
دوسری جانب ایئر فورس ون میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی نئی قیادت “معقول” دکھائی دیتی ہے اور ممکن ہے کہ جلد کوئی ڈیل ہو جائے، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ بات چیت ناکام بھی ہو سکتی ہے۔
ادھر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان آنے والے دنوں میں “بامعنی مذاکرات” کیلئے سہولت فراہم کرنے کو تیار ہے، اگر دونوں فریق راضی ہوں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مشرق وسطیٰ میں جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر گزشتہ 24 گھنٹوں میں 140 سے زائد فضائی حملے کیے گئے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق تہران اور تبریز میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سیکڑوں امریکی اسپیشل آپریشن فورسز بھی مشرق وسطیٰ پہنچ چکی ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
ایران نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی دباؤ یا “ہتھیار ڈالنے” کو قبول نہیں کرے گا۔
