اسٹاک ہوم: سویڈش تاجر روجر اکیلیوس نے غزہ کے بچوں کی مدد کے لیے 70 ملین یورو (21 ارب پاکستانی روپے) عطیہ دینے کا اعلان کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اسے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال یونیسیف کو ملنے والا اب تک کا سب سے بڑا یکمشت عطیہ قرار دیا جا رہا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سویڈن سے تعلق رکھنے والے ارب پتی کاروباری شخصیت کے مطابق یہ خطیر رقم خاص طور پر غزہ میں تعلیم کے شعبے کی بحالی پر خرچ کی جائے گی۔ جہاں حالیہ جنگی تباہی کے باعث سینکڑوں اسکول متاثر یا مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
اکیلیوس فاؤنڈیشن کی سربراہ کرسٹن اینگسٹروم کے مطابق اس امداد سے تقریباً 400 نئے اسکولوں کی تعمیر یا بحالی ممکن ہو سکے گی۔ جس سے ہزاروں فلسطینی بچوں کو دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
روجر اکیلیوس نے اپنے فیصلے سے متعلق بتایا کہ انہوں نے یہ عطیہ دینے کا فیصلہ محض 15 منٹ میں کیا۔ کیونکہ ان کے بقول غزہ کے بچوں کو فوری مدد کی ضرورت ہے اور تعلیم ہی ان کے مستقبل کی ضمانت بن سکتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: امریکی فوج کو خلیجی مچھلیوں کی خوراک بنا دیں گے، ایرانی فوج کی امریکا کو دھمکی
یونیسیف حکام نے اس عطیے کو انسانی ہمدردی کی ایک غیر معمولی مثال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے جنگ زدہ بچوں کو نہ صرف تعلیمی سہولیات میسر آئیں گی بلکہ انہیں محفوظ ماحول میں واپس لانے میں بھی مدد ملے گی۔
