اسلام آباد (تحریر: عاصمہ شیرازی) اسلام آباد اتوار کو ایک اہم میزبانی کرنے جا رہا ہے۔ بظاہر تین ممالک کے وزرائے خارجہ اسلام آباد میں مل رہے ہیں جن میں مصر، ترکیے اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ شامل ہیں تاہم اسے ایک اہم مرحلے کا وارم اپ اجلاس بھی کہا جا سکتا ہے۔
یہ تینوں ملک ایک ایسے وقت میں مل رہے ہیں جب خطے میں جنگ پھیلنے کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ آگ کے شعلوں میں ہے اور یہ آگ کسی بھی وقت پھیل سکتی ہے۔ اس میں شُبہ نہیں کہ سعودی عرب کی معاملہ فہمی اور ضبط قابل ستائش ہے تاہم دیگر خلیجی ریاستیں اسرائیل کی کسی گہری سازش کا نشانہ بن سکتی ہیں۔
پاکستان ایک تنی ہوئی رسی پر چل رہا ہے۔ آخر پاکستان یہ رسک کیوں لے رہا ہے؟ کیونکہ پاکستان وہ واحد ملک ہے جو کسی بھی سنگین صورت حال کا پہلا نشانہ ہو سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ پاکستان اب تک اس آگ کو پھیلنے سے روک رہا ہے۔ پاکستان امن کا خواہاں بھی ہے اور اپنے دامن کو آگ سے بچا بھی رہا ہے۔ پاکستان ثالثی کی نہیں بلکہ رابطوں کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ امن کی اُمید روشن رہے۔
پاکستان دراصل اس پورے مرحلے میں زیادہ سے زیادہ وقت کے حصول کے لیے کوشاں ہے اور یہی پاکستان کی پہلی ترجیح ہے۔ وقت لینے کی کوشش میں کوئی راہ نکالنے کی جستجو پاکستان کو متحرک رکھے ہوئے ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں پاکستان کی جانب سے جو کوششیں کی گئی ہیں وہ نہ صرف تسلیم کی جا چکی ہیں بلکہ قابل ستائش بھی ہیں اسی سبب پاکستان اس وقت سینٹر اسٹیج پر ہے۔
پاکستان کی جانب سے فیلڈ مارشل کا صدر ٹرمپ سے براہ راست رابطہ اس سے قبل اسلام آباد میں باقاعدہ سفارتکاری کا نتیجہ تھی۔ یہ ایک کال محض ایک رابطہ نہ تھا بلکہ اس سے قبل پاکستان کا چین سمیت دیگر اہم سفراء سے رابطہ اور منظم منصوبہ بندی کا عکاس تھا جس نے اس باضابطہ “پسندیدہ فیلڈ مارشل” کی کال کو ممکن بنایا۔ اس کے بعد نہ صرف پاکستان کی درخواست پر امریکہ نے ایران کے توانائی کے پلانٹس پر حملوں کو پانچ دن کے لیے مؤخر کیا بلکہ بعد میں اس میں دس دن کی توسیع بھی کی۔ سب سے اہم یہ کہ دو اہم ترین ایرانی رہنماؤں اسپیکر باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی کے نام بھی اہداف کی فہرست سے نکالے گئے۔
اسٹیو وٹکوف کی جانب سے یہ اعتراف کہ پندرہ مطالبات پاکستان کے ذریعے ایران کے سامنے رکھے گئے ہیں پاکستان پر ایران اور امریکہ کے اعتماد کا اظہار ہے۔ اس دوران ایران نے بھی چند “سفارتی اشارے” دیے ہیں جس کے بعد وزیراعظم شہباز شریف اور صدر پزشکیان کے درمیان “ایک گھنٹہ” طویل کال وقوع پذیر ہوئی ہے۔
اسلام آباد کی پہلی ترجیح امریکی حملوں کے حالیہ وقفے کو طویل کرنا ہے۔ دوسری ترجیح دونوں ممالک کے درمیان براہ راست بات چیت کی جگہ اور مواقع دستیاب کرنا جبکہ تیسرے مرحلے میں دونوں کے درمیان کسی بڑی طاقت کی ضمانت فراہم کرنا ہو گا۔
جنگ دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جس میں یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر حملے اور مزید شمولیت کا عندیہ موجود ہے۔ بحر احمر میں ایک اور گزرگاہ آبنائے باب المندب کی بندش کی دھمکی بھی دی جا چکی ہے۔ اس صورت آبنائے ہرمز کے بعد یہ ایک اور ڈراؤنا خواب بن سکتا ہے۔ خطے میں جنگ کا دامن پھیل رہا ہے جبکہ امن ایک خواب بن رہا ہے۔
پاکستان کی ان کوششوں میں کامیابی امریکی نائب صدر اور ایرانی اسپیکر کے درمیان بات چیت کا ذریعہ بن سکتی ہے یہ کہنا تو قبل از وقت ہے تاہم تاریخ میں ایک بار پھر پاکستان انیس سو بہتر کے بعد جب پاکستان نے چین اور امریکہ کے درمیان تناؤ کم کروانے میں براہ راست کردار ادا کیا تھا، مرکزی اسٹیج پر ہے۔
