پاکستان سمیت دنیا بھر میں ماحول کے تحفظ اور توانائی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے پیغام کے ساتھ آج ارتھ آور منایا گیا۔
اس موقع پر ملک بھر میں رات ساڑھے 8 بجے سے ساڑھے 9 بجے تک غیر ضروری روشنیاں بند رکھی گئیں، جبکہ شہریوں نے بھی اس عالمی مہم میں بھرپور حصہ لیا۔
کراچی، لاہور، اسلام آباد سمیت مختلف بڑے شہروں میں نمایاں عمارات اور سرکاری دفاتر کی غیر ضروری لائٹس بند کر دی گئیں۔
اسلام آباد میں شاہراہ دستور پر واقع پارلیمنٹ ہاؤس، سپریم کورٹ، وفاقی آئینی عدالت اور الیکشن کمیشن کی عمارات کی روشنیاں بند رہیں، جبکہ ایوان صدر، وزیراعظم آفس اور کابینہ ڈویژن میں بھی غیر ضروری لائٹس بجھا دی گئیں۔
آسٹریا میں بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر پابندی
لاہور میں واپڈا ہاؤس اور پنجاب اسمبلی کی عمارتوں پر بھی علامتی طور پر لائٹس بند کی گئیں، جبکہ کراچی میں موہاٹا پیلس کی روشنیاں مدھم کر کے اس مہم سے اظہارِ یکجہتی کیا گیا۔
ملتان میں واسا ہیڈ آفس شمس آباد سمیت مختلف اداروں میں بھی ایک گھنٹے کیلئے غیر ضروری لائٹس بند رکھی گئیں۔
اس کے علاوہ لاہور میں جاری پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میچ کے دوران بھی ارتھ آور منایا گیا، جہاں قذافی اسٹیڈیم کی فلڈ لائٹس پانچ منٹ کیلئے بند کی گئیں۔ لاہور ٹریفک پولیس نے بھی اپنے ٹریفک کیاسک کی لائٹس بند کر کے اس مہم میں حصہ لیا۔
ارتھ آور مہم کا آغاز 2007 میں ورلڈ وائلڈ فنڈ فار نیچر (WWF) نے کیا تھا، جس کا مقصد عوام میں توانائی کے محتاط استعمال اور ماحولیاتی تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کرنا ہے، آج یہ مہم 190 سے زائد ممالک میں منائی جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی زمین کیلئے سنگین خطرہ بن چکے ہیں، اور ایسے اقدامات کے ذریعے عوام میں ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا نہایت ضروری ہے تاکہ آنے والی نسلوں کیلئے ایک محفوظ اور سرسبز زمین یقینی بنائی جا سکے۔
