ویانا: آسٹریا کی حکومت نے 14 سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال پر ملک بھر میں پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جبکہ تعلیمی نصاب میں میڈیا لٹریسی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) کو شامل کرنے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق نائب چانسلر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کم عمر صارفین کی ذہنی صحت اور رویوں پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔ اس لیے بچوں کے تحفظ کے لیے عمر کی حد مقرر کرنا ضروری ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جس طرح دیگر حساس مواد کے استعمال پر عمر کی پابندیاں ہوتی ہیں۔ اسی طرز پر سوشل میڈیا کے لیے بھی ضوابط بنائے جا رہے ہیں۔
حکومت کے مطابق یہ پابندی پورے ملک میں نافذ کی جائے گی۔ اور آسٹریا یورپی یونین کی سطح پر بھی ایسے اقدامات کو فروغ دینے کی کوشش کرے گا۔ تاکہ بچوں کو آن لائن خطرات سے محفوظ بنایا جا سکے۔
دوسری جانب تعلیمی اصلاحات کے تحت 28-2027 کے تعلیمی سال سے اعلیٰ ثانوی سطح پر میڈیا لٹریسی اور مصنوعی ذہانت کو باقاعدہ نصاب کا حصہ بنایا جائے گا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد طلبا کو ڈیجیٹل دنیا کے مواقع اور خطرات سے آگاہ کرنا اور انہیں آن لائن مواد کا تنقیدی تجزیہ کرنے کی صلاحیت فراہم کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: اے آئی چیٹ بوٹس کے استعمال میں احتیاط ضروری، ماہرین نے خبردار کر دیا
ماہرین کے مطابق آسٹریا کا یہ فیصلہ دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ سوشل میڈیا کم عمر افراد کی ذہنی صحت، تعلیمی کارکردگی اور سماجی رویوں پر گہرے اثرات ڈال رہا ہے۔
