امریکا میں صدارتی سیاست ایک بار پھر اس وقت گرما گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک متنازع بیان منظر عام پر آیا، جس میں انہوں نے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے حوالے سے سخت اور نامناسب زبان استعمال کی۔
میڈیا رپورٹس اورسوشل میڈیا پرگردش کرنیوالی ویڈیوزکے مطابق ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی قیادت کی ایران کے خلاف پالیسیوں میں مدد کی اوراسی تناظر میں انہوں نے سخت جملے ادا کیے، ان کے اس بیان پر مختلف حلقوں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
View this post on Instagram
اگلا ہدف کیوبا ، ایران سے مذاکرات کے نتائج جلد سامنے آئیں گے ، ڈونلڈ ٹرمپ
ٹرمپ نے اپنے بیان میں سعودی عرب پر زوردیا کہ وہ مزید تاخیر نہ کرے اور ابراہام معاہدے میں شامل ہوجائے ان کا کہنا تھا کہ “اب وقت آ گیا ہے” کہ سعودی عرب خطے میں نئے سفارتی تعلقات کو آگے بڑھائے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اس طرح کے بیانات نہ صرف امریکا اور سعودی عرب کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں بلکہ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں بھی نئی بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ اس بیان کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق تاحال سامنے نہیں آئی تاہم یہ معاملہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کر رہا ہے۔
