حالیہ طبی تحقیق سے انکشاف ہوا ہے کہ کولیسٹرول کم کرنے کے لیے استعمال ہونے والی ادویات انسانی جسم کے مختلف حصوں پر غیر متوقع اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔
یہ تحقیق بین الاقوامی ماہرینِ صحت اور محققین کی ایک ٹیم نے انجام دی، جس میں ان ادویات کے طویل مدتی استعمال کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ تحقیق کے نتائج کے مطابق خصوصاً اسٹیٹنز (Statins) کا استعمال نہ صرف کولیسٹرول کی سطح کم کرتا ہے بلکہ بعض افراد میں جسمانی اور حیاتیاتی تبدیلیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
غیر قانونی فارماسٹس اور دوائیوں کی غلط فراہمی: عوام کی صحت کے لیے خطرہ
مطالعے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان ادویات کے استعمال سے کچھ مریضوں میں وزن میں اضافہ اور جسم میں چربی کے تناسب میں تبدیلی دیکھی گئی، جس کی ممکنہ وجہ ہارمونل نظام میں رد و بدل ہو سکتی ہے۔
مزید برآں، تحقیق کے دوران دماغ کے ایک اہم حصے ہپوکیمپس (Hippocampus) میں تبدیلیوں کا بھی مشاہدہ کیا گیا، جو یادداشت اور جذباتی کیفیت سے تعلق رکھتا ہے۔ اسی طرح پھیپھڑوں کے افعال پر بھی کچھ اثرات کے شواہد سامنے آئے، جن پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ یہ ادویات دل کی بیماریوں کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں، تاہم ان کے ممکنہ ضمنی اثرات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
روزمرہ کی عام غذائیں جو کمرے کے درجہ حرارت میں زہر بن سکتی ہیں
تحقیق کرنے والی ٹیم نے زور دیا ہے کہ مریضوں کو ان ادویات کے استعمال سے پہلے اپنے معالج سے مکمل رہنمائی لینی چاہیے، جبکہ سائنسدانوں کے مطابق اس حوالے سے مزید جامع تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ ان اثرات کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے۔
