ٹیکنالوجی کمپنی گوگل نے خبردار کیا ہے کہ کوانٹم کمپیوٹنگ کی تیز رفتار پیش رفت کے باعث آئندہ چند برسوں میں عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی کو سنگین چیلنجز درپیش آ سکتے ہیں۔
کمپنی کے مطابق اگر کوانٹم کمپیوٹرز اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ عملی طور پر کام کرنے لگیں تو وہ روایتی کرپٹوگرافک نظاموں کو توڑنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جو آج انٹرنیٹ پر ڈیٹا کو محفوظ بنانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
نوجوان کی ذہنی صحت متاثر کرنے پر میٹا اور یوٹیوب کو بھاری جرمانہ
گوگل نے اس خدشے کے پیش نظر کہا ہے کہ حساس معلومات جیسے مالی ڈیٹا، ذاتی پیغامات اور دیگر خفیہ معلومات مستقبل میں خطرے کی زد میں آ سکتی ہیں، اگر بروقت حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے۔
کمپنی نے اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے “پوسٹ-کوانٹم کرپٹوگرافی” کی طرف منتقلی کی ضرورت پر زور دیا ہے، جس کے تحت ایسے نئے انکرپشن طریقے اپنائے جائیں گے جو کوانٹم کمپیوٹنگ کے ممکنہ خطرات کے خلاف زیادہ مؤثر ہوں۔
مزید یہ کہ گوگل نے ٹیکنالوجی کمپنیوں، مالی اداروں اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سیکیورٹی نظاموں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے ابھی سے اقدامات شروع کریں تاکہ مستقبل میں ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
اسمارٹ فون خریداری کے قواعد سخت، نئی پالیسی لاگو
ماہرین کے مطابق کوانٹم ٹیکنالوجی جہاں بے پناہ امکانات رکھتی ہے، وہیں اس کے ساتھ ڈیٹا سیکیورٹی کے حوالے سے نئے اور پیچیدہ چیلنجز بھی جنم لے رہے ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے عالمی سطح پر مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہوگی۔
