غزہ کے علاقے مغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک نہایت افسوسناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی فورسز نے 21 ماہ کے جواد ابو نصار کو ان کے والد کے ساتھ اسرائیلی فورسز نے وسطی غزہ میں حراست میں لیا۔ بچے کو تقریباً 10 گھنٹے بعد ریڈ کراس کے ذریعے رہا کیا گیا۔
اسرائیلی فوج نے دوران حراست بچے کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ بچے کے جسم کو سگریٹ سے داغا گیا اور اس کے زخموں میں ناخن پیوست کیے گئے، جس کے باعث وہ شدید تکلیف میں مسلسل روتا رہا۔
اسرائیلی فوج نے بچے پر زیادتی کے الزامات کی تردید کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کا والد جو اب بھی لاپتہ ہے، حماس کا رکن تھا اور اس نے بچے کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ تاہم اسرائیلی فوج نے اس دعوے سے متعلق کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا۔
