واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں سخت بیانات دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں نیٹو ممالک نے امریکا کی کوئی مدد نہیں کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ امریکا اپنی طاقت پرانحصار کرتا ہے اوراسے کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں ہے، صدرٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو فوری طور پرسنجیدہ ہونا چاہیے، اس سے پہلے کہ بہت دیر ہو جائے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام خود امریکا کے پاس آ کر معاہدے کے لئے رابطے کر رہے ہیں اور کسی نہ کسی شکل میں سمجھوتہ چاہتے ہیں۔
پینٹاگون کا یوکرین کے لیے مختص ہتھیار مشرق وسطیٰ منتقل کرنے پر غور
اپنے بیان میں ٹرمپ نے ایرانی مذاکرات کاروں کو “بہت مختلف اور عجیب” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے ساتھ بات چیت کرنا آسان نہیں تاہم امریکا اپنے مفادات کے تحفظ کے لئے ہرممکن اقدام کرے گا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ٹرمپ کے حالیہ بیانات خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں اور اس کے عالمی سیاست پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات خطے میں استحکام کے لیے اہم ہو سکتے ہیں، تاہم دونوں جانب سخت مؤقف صورتحال کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔
