واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران پسِ پردہ امن مذاکرات میں شامل ہے۔ تاہم اس کے نمائندے عوامی ردعمل کے خوف سے اس کا کھل کر اعتراف نہیں کر رہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے لیکن اپنے داخلی سیاسی دباؤ کے باعث کھلے عام بات چیت سے گریز کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قیادت کو نہ صرف اپنے عوام کے ردعمل بلکہ امریکا کی ممکنہ کارروائی کا بھی خوف ہے۔ جاری تنازع میں ایران کو بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے داخلی سیاست پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین فوجی کارروائی کی کامیابیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور طنزیہ انداز میں کہا کہ وہ اسے ’جنگ‘ کے بجائے ’فوجی کارروائی‘ کہنا پسند کریں گے۔
ادھر صدارتی ذرائع کے مطابق اگر ایران نے پسپائی اختیار نہ کی تو اس کے خلاف مزید سخت اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ ایرانی سرکاری ذرائع نے بھی تصدیق کی ہے کہ تہران نے امریکا کے مجوزہ 15 نکاتی منصوبے کو مسترد کر دیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات، اسرائیلی تجویز کو خطرناک قرار دے دیا گیا
ذرائع کے مطابق اس منصوبے میں ایران کے جوہری پروگرام میں کمی، میزائل پروگرام پر پابندیاں، آبنائے ہرمز میں بحری گزرگاہ کی مکمل بحالی اور خطے میں مسلح گروہوں کی حمایت محدود کرنے جیسے نکات شامل تھے
