وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ قومی مفاد پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان حالیہ عرصے میں عالمی اور علاقائی سطح پر ایک ذمہ دار اور کلیدی کردار کے طور پر سامنے آیا ہے، اور دنیا بھر میں اسے ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد ملک کے طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی کشیدگی کے ماحول میں پاکستان امن کے قیام اور تنازعات کے حل کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ثالثی کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کی ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر اس کی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔
عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل کے خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ اقدامات جاری ہیں، اور ان کوششوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیاں اب واضح طور پر سامنے آ رہی ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی طاقتیں پاکستان کے کردار کو اہمیت دے رہی ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی اہمیت کے باعث بھارت میں تشویش پائی جا رہی ہے، تاہم پاکستان اپنی پالیسیوں کے ذریعے خطے میں استحکام اور توازن برقرار رکھنے کے لیے پرعزم ہے۔
داخلی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ ملک میں سیاست اور تنقید جمہوری عمل کا حصہ ہیں اور ہر شہری کو اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، لیکن اس حق کے استعمال میں قومی مفاد اور وقار کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی اختلافات کو اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ ریاست کی ساکھ متاثر ہو۔
وزیر اطلاعات نے کہا کہ عارف آجاکیہ ہمیشہ پاکستان کیخلاف مہم چلاتا ہے، وہ برطانیہ میں بھارت کےحق میں مہم چلاتا ہے، انہوں نے کہا کہ سیاسی مخالفت میں ملک کی تضحیک ناقابل برداشت ہے۔
انہوں نے بعض سیاسی جماعتوں بالخصوص تحریک انصاف پر تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ملک کے خلاف مہمات میں ملوث رہی ہے۔ ان کے مطابق بعض عناصر نے سیاسی مقاصد کے لیے بین الاقوامی اداروں کو خطوط لکھے، جس سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچ سکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان ڈیفالٹ کر جاتا تو اس کے اثرات پوری قوم کو بھگتنا پڑتے۔
عطا تارڑ نے کہا کہ حکومت نے سیاسی کشادگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی کے بیٹوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی، تاہم ان کی جانب سے مثبت ردعمل سامنے نہیں آیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی مخالفین کی جانب سے کیے گئے وعدے، جیسے لاکھوں نوکریوں کی فراہمی، عملی طور پر پورے نہیں ہو سکے۔
انہوں نے بعض افراد پر بیرون ملک پاکستان کے خلاف مہم چلانے کا الزام بھی عائد کیا اور کہا کہ ایسے عناصر کو اپنے رویے پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفت اپنی جگہ، لیکن ملک کے خلاف بیانیہ بنانا ناقابل قبول ہے۔
وزیراعظم کا ہر شہری کو اپنا گھر دینے کا عزم، اہم ہدایات جاری کر دیں
وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی جماعت یا شخصیت ریاست سے بالاتر نہیں ہو سکتی اور قومی مفاد کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی والےسمجھتےہیں کہ ان کا لیڈر پاکستان سے بڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے خلاف کسی بھی سازش کو ناکام بنایا جائے گا اور ملک کے استحکام، سلامتی اور ترقی کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان نہ صرف داخلی استحکام بلکہ علاقائی امن کے لیے بھی اپنا مثبت کردار ادا کرتا رہے گا، اور عالمی سطح پر اپنی ساکھ کو مزید مضبوط بنائے گا۔
