امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) ایک اہم فیصلے پر غور کر رہا ہے کہ آیا یوکرین کے لیے مختص ہتھیار مشرق وسطیٰ منتقل کیے جائیں، جہاں ایران کے ساتھ جاری جنگ میں امریکی اسلحہ تیزی سے استعمال ہو رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اب تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، تاہم اگر ایسا کیا گیا تو یہ اس بات کی واضح علامت ہوگا کہ امریکا کو بیک وقت دو محاذوں پر جنگی ضروریات پوری کرنے میں مشکل پیش آ رہی ہے۔
اطلاعات ہیں کہ امریکی سینٹرل کمانڈ ایران کے خلاف صرف چار ہفتوں میں 9 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنا چکی ہے۔
ممکنہ طور پر یوکرین سے ہٹائے جانے والے ہتھیاروں میں فضائی دفاعی میزائل شامل ہیں، جو نیٹو کے ایک پروگرام کے تحت یوکرین کو فراہم کیے جا رہے تھے۔ یہ پروگرام اس بات کو یقینی بناتا تھا کہ امریکا کی براہ راست امداد میں کمی کے باوجود یوکرین کو اسلحہ ملتا رہے۔
یوکرین کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ صورتحال سے آگاہ ہے اور موجودہ غیر یقینی حالات کو سمجھتی ہے، تاہم اسے اپنے دفاع کے لیے مسلسل سپورٹ درکار ہے، خاص طور پر فضائی دفاعی نظام کی۔
یورپی ممالک کو خدشہ ہے کہ ایران کے خلاف جنگ میں امریکا اپنے اسلحہ ذخائر تیزی سے استعمال کر رہا ہے، جس سے نہ صرف ان کے اپنے آرڈرز متاثر ہو سکتے ہیں بلکہ یوکرین کو سپلائی بھی سست پڑ سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا نے کچھ جدید دفاعی نظام، جیسے پیٹریاٹ اور تھاڈ میزائل، دنیا کے دیگر خطوں سے نکال کر مشرق وسطیٰ منتقل کیے ہیں تاکہ ایرانی ڈرون اور میزائل حملوں کا مقابلہ کیا جا سکے۔
ادھر پینٹاگون نے کانگریس کو بھی آگاہ کیا ہے کہ نیٹو پروگرام کے تحت ملنے والی کچھ فنڈنگ یوکرین کو اسلحہ دینے کے بجائے امریکی ذخائر دوبارہ بھرنے پر خرچ کی جا سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ امریکا کو اب یہ فیصلہ کرنا پڑ رہا ہے کہ محدود وسائل کو کس محاذ پر ترجیح دی جائے، اور یہ بحث آئندہ دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔
