اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کو قرض پروگرام کی آئندہ 12 ارب ڈالر کی قسط جاری کرنے سے قبل حکومت سے پیٹرول اور ڈیزل پر بھی لیوی بڑھانے کا مطالبہ کر دیا۔
ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اگلی قسط کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ آئندہ چند روز میں طے پانے کا امکان ہے۔ جس کے لیے آئی ایم ایف مشن نے میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسیز کا مسودہ حکومت کے ساتھ شیئر کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور اسٹیٹ بینک پاکستان کے گورنر اتفاق رائے ہونے کی صورت میں اس مسودے پر دستخط کریں گے۔
آئی ایم ایف نے حکومت کو ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھانے پر زور دیتے ہوئے تجویز دی ہے کہ ہائی اوکٹین کے بعد پیٹرول اور ڈیزل پر بھی 5 روپے فی لیٹر تک لیوی بڑھائی جائے تاکہ محصولات میں اضافہ کیا جا سکے۔
حکومت نے ترقیاتی بجٹ میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کے فیصلے پر بھی آئی ایم ایف کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ جبکہ فنڈ نے سرکاری اداروں کے سربراہان کی تقرری کا اختیار براہ راست حکومت کو دینے کی تجویز پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
مزید برآں حکومت نے بجلی اور گیس کے شعبے میں گردشی قرض پر قابو پانے کا منصوبہ بھی آئی ایم ایف کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ جبکہ رئیل اسٹیٹ سیکٹر کو ریلیف دینے اور جائیدادوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس میں کمی کی تجاویز کو آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: عدالت کا پی ٹی آئی رہنماؤں کو 21 مئی تک گرفتار نہ کرنے کا حکم
ماہرین کے مطابق اگر پیٹرولیم لیوی میں اضافہ کیا گیا تو اس کے اثرات مہنگائی اور ٹرانسپورٹ اخراجات پر پڑنے کا خدشہ ہے۔ تاہم حکومت اسے آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے کے لیے ناگزیر قرار دے رہی ہے۔
