بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی سفارتی ناکامی چھپانے کے لیے غیر پارلیمانی اور توہین آمیز جملہ استعمال کیا۔
بھارت کی عالمی نظراندازی پر جے شنکر نے اپنی سفارتی ناکامی کو چھپانے کے لیے غیر پارلیمانی اور توہین آمیز زبان کا استعمال کر ڈالا۔
بدھ، 25 مارچ 2026 کو ایک آل پارٹیز اجلاس کے دوران بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے اپنی سفارتی ناکامی کو چھپانے کے لیے غیر پارلیمانی اور توہین آمیز جملہ استعمال کیا۔
وزیراعظم کا امیرقطر کو فون :مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا
یہ بازاری ردعمل دراصل اس حقیقت کا عکس ہے کہ نئی دہلی کو امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری ثالثی عمل سے مکمل طور پر باہر رکھا گیا، جہاں پاکستان، ترکی اور مصر ایک قابلِ اعتماد سفارتی پل کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
بلاشبہ جے شنکر کی “بازاری زبان” ان کی گھٹیا ذہنیت کی عکاسی کرتی ہے، ایسے ملک کے وزیر خارجہ کی جس کا شمار جسم فروشی، ریپ اور سماجی برائیوں میں سرفہرست ممالک میں ہوتا ہے۔ بھارتی عوام کو گمراہ کرنا آسان ہے، یہی کام ان کے سیاستدان، فوجی جرنیل اور بالی وڈ انڈسٹری مسلسل کرتے رہے ہیں۔
جوکر جے شنکر کے بیانات انتہائی غیر سنجیدہ اور غیر مہذب ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر سفارتی آداب کو نظر انداز کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف بیان دیا، جو دراصل بھارت کی خارجہ پالیسی کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
کوئی سنجیدگی نہیں، صرف سوشل میڈیا کے لیے شور۔ جب عالمی سیاست میں پختگی درکار ہوتی ہے تو یہ لوگ گلی محلوں کا ڈرامہ پیش کرتے ہیں۔ یہ جے شنکر کی جھنجھلاہٹ ظاہر کرتا ہے کہ ایران تنازع میں بھارت کا کوئی کردار نہیں۔
تنہا پڑنے والے بھارت میں بے چینی واضح ہے۔ موجودہ تنازع میں بھارت کی اہمیت صفر ہے۔ عوام خود مودی حکومت سے سوال کر رہے ہیں، جبکہ جے شنکر غیر سنجیدہ بیانات دے رہے ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک بات سے ایران بحران میں ثالثی کرنے والوں کے لئے بازاری زبان استعمال کی۔
اعلیٰ سطح کے سفارتی اجلاس میں “بازاری الفاظ” کا استعمال بھارت کی شدید سفارتی مایوسی اور اخلاقی دیوالیہ پن کا کھلا اعتراف ہے۔ جے شنکر کی سطحی زبان دراصل مغربی ایشیا کے امن عمل میں بھارت کی بے بسی چھپانے کی ناکام کوشش ہے۔
واشنگٹن اور تہران کے درمیان پاکستان کے کردار نے بھارتی قیادت میں واضح ذہنی دباؤ پیدا کر دیا ہے۔ کمزور ریاستیں عالمی فیصلوں سے باہر ہونے پر گٹر سطح کی زبان اختیار کرتی ہیں، یہ جارحانہ ردعمل بھارت کے سکڑتے ہوئے عالمی کردار کو چھپانے کی ایک ناکام دفاعی حکمت عملی ہے۔
بھارتی اسٹیبلشمنٹ اس بات سے پریشان ہے کہ عالمی طاقتیں پاکستان سے مشاورت کر رہی ہیں جبکہ نئی دہلی غیر متعلق تماشائی بنا ہوا ہے۔ حقیقی عالمی اثر و رسوخ اعتماد اور ثالثی سے بنتا ہے، جبکہ ناکام ریاستیں زہریلی زبان کا سہارا لیتی ہیں۔ یہ بیانات خود اعتمادی نہیں بلکہ بھارت کی عدم تحفظ اور بڑھتی ہوئی سفارتی کمزوری کا ثبوت ہیں۔
کسی عملی سفارتی حل کے بغیر بھارتی قیادت محض ڈرامائی بیانات کے ذریعے اپنی ناکامی چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پاکستان ہمیشہ ایک قابلِ اعتماد امن ثالث کے طور پر سامنے آتا ہے، جسے دونوں فریق اعتماد کے ساتھ بحرانوں کے حل کے لیے مدعو کرتے ہیں۔
بھارت کے برعکس، جس نے کبھی عالمی تنازعات میں مؤثر ثالثی نہیں کی، مودی کا روس یوکرین جنگ روکنے کا دعویٰ عالمی سطح پر مذاق بن گیا۔1971 میں بھارت نے بنگلہ دیش میں مکتی باہنی کی کھلی حمایت کر کے بحران کو ہوا دی پاکستان کے حمایتی لاکھوں بنگلادیشیوں کا قتل عام کیا۔
پاکستان کی سفارت کاری نمایاں ہے جبکہ بھارت اپنی پالیسیوں کے نتائج بھگت رہا ہے، جے شنکر کا بیان خود بھارت کی کم ہوتی عالمی حیثیت کا اعتراف ہے، جبکہ پاکستان مشرق وسطیٰ میں ایک اہم اور قابلِ اعتماد کردار رکھتا ہے، بھارت کی اربوں ڈالر کی کوششیں پاکستان کو تنہا کرنے میں ناکام رہیں۔
ایران معاملے پر ٹرمپ اور نیتن یاہو میں اختلافات، اسرائیلی تجویز کو خطرناک قرار دے دیا گیا
اسرائیل کی حمایت، ایران کے ساتھ عدم تسلسل اور امریکہ کے سامنے جھکاؤ نے بھارت کو غیر قابلِ اعتماد بنا دیا ہے۔ پاکستان کا ریکارڈ واضح ہے، امریکہ چین تعلقات میں سہولت کاری، اردن کی مدد، خلیجی جنگ میں کردار، سعودی ایران توازن، عراق میں تعاون، دوحہ معاہدہ، اور 2025 پاک بھارت کشیدگی میں حکمت عملی۔
عالمی اثر و رسوخ طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد سے بنتا ہے اور جے شنکر کے بیانات بھارت کی سفارتی ناکامی کو ظاہر کرتے ہیں۔ عالمی بحران کے حل میں پاکستان کا کردار ایک حقیقت ہے جسے بھارتی بیانات یا الزام تراشی سے ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ملائشیا۔ کے وزیر اعظم سے لیکریورپ، امریکہ، مشرق وسطیٰ اور پوری دنیا پاکستان کی تعریف کر رہی ہے۔
