وفاقی آئینی عدالت میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے خلاف مبینہ فورس بنانے کی درخواست پر سماعت ہوئی۔
سماعت کے دوران جسٹس علی باقر نجفی نے ریمارکس دیے کہ عدالت سیاسی بیانات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔
جسٹس علی باقر نجفی نے استفسار کیا کہ اگر فورس بنانے کا کوئی ٹھوس ثبوت یا سرکاری نوٹیفکیشن موجود ہے تو پیش کیا جائے۔ اس پر درخواست گزار کے وکیل نے شواہد پیش کرنے کے لیے عدالت سے مہلت طلب کی۔
وزیراعظم کا امیرقطر کو فون :مکمل یکجہتی اور حمایت کا یقین دلایا
عدالت نے وکیل کی استدعا منظور کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت ملتوی کر دی۔
