کراچی اور اندرونِ سندھ میں غیر رجسٹرڈ فارمیسیز اور بغیر لائسنس کے غیر قانونی فارماسسٹ عوامی صحت کیلئے سنگین خطرات پیدا کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کئی فارمیسی اسٹورز پر صرف ظاہری طور پر کسی ماہر کا نام یا ڈگری دکھائی جاتی ہے، جبکہ حقیقت میں وہاں تربیت یافتہ پیشہ ور موجود نہیں ہوتے۔
کھانسی کا معروف سیرپ غیرمعیاری اور ملاوٹ شدہ نکلا
یہ مسئلہ محض معمولی کوتاہی نہیں بلکہ صحت کے شعبے میں بے احتیاطی اور لاپرواہی کے باعث براہِ راست عوام کو نقصان پہنچانے کا سبب بن رہا ہے۔ ملک میں بغیر ڈاکٹر سے رجوع کیے خود ادویات لینے کا رجحان بڑھ رہا ہے، اور اینٹی بایوٹکس کے خلاف مدافعت میں اضافہ بھی ہو رہا ہے، جس میں ناقص ریگولیشن ایک اہم وجہ ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2024 کے آخر تک تقریباً 90 فیصد فارمیسیز میں مستند فارماسسٹ موجود نہیں تھے۔ 80 ہزار سے زائد نیٹ ورک شدہ فارمیسیز میں سے صرف 55 ہزار پر ہی تعلیم یافتہ اور لائسنس یافتہ پیشہ ور فارماسسٹ دستیاب تھے۔
کئی دکانوں پر کم تجربہ رکھنے والے افراد یا صرف ادویات کے نام جاننے والے لوگ مریضوں کو مشورے دیتے ہیں، اور جب مطلوبہ دوائی دستیاب نہیں ہوتی تو بغیر مکمل معلومات کے متبادل ادویات تجویز کر دیتے ہیں، جو سنگین پیچیدگیوں کا سبب بن سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مسئلے کو بڑھانے میں ضلع ہیلتھ آفیسرز کے دفاتر میں کرپشن بھی شامل ہے، جہاں ڈرگ لائسنس غیر مستحکم اور غیر شفاف طریقے سے جاری کیے جاتے ہیں۔ اس کے باعث غیر قانونی فارمیسیز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور عوامی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔
یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت بہتر بنانے کا آسان طریقہ
صحت کے ماہرین کے مطابق اس بحران کے خاتمے کے لیے سخت اور مستقل اصلاحات ناگزیر ہیں۔ دوا کے لائسنس کے اجراء کے قوانین پر سختی سے عمل درآمد اور ہر سطح پر احتساب کو یقینی بنایا جانا چاہیے، تاکہ غیر قانونی فارمیسیز عوام کی زندگیوں کے لیے خطرہ بننے سے روکی جا سکیں۔
