وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں چھتوں سے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کا نظام لازمی قرار دیدیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے کی زیرصدارت پانی کے مسائل سے متعلق اقدامات اور پیشرفت پر اجلاس ہوا،اجلاس میں پانی کے بنیادی انفراسٹرکچر کی اپگریڈیشن اور بحالی کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔
سی ڈی اے نےپہلی عالمی جنگ کی یادگار کی منتقلی پر وضاحت کردی
اجلاس میں بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے اور زیر زمین پانی کو ریچارج کرنے بارے اقدامات سے آگاہ کیا گیا، بریفنگ میں بتایا گیا کہ بارش کے پانی کو ذخیرہ کرنے کیلئے تقریباً 20 مقامات پر واٹر اسٹوریج ٹینکس تعمیر کئے جائینگے۔
دارالحکومت اسلام آباد میں چھتوں سے بارش کا پانی ذخیرہ کرنے کے نظام کو لازمی قرار دیا گیا،چیئرمین سی ڈی اے نے ہدایت کی کہ اس نظام پر سختی سے عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے۔
بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ وفاقی دارالحکومت میں 11 ویٹ لینڈز کے پی سی-ون کی منظوری دے دی گئی ہے،محمد علی رندھاوا نے ہدایت کی کہ منصوبوں اور اقدامات کی تکمیل کیلئے واضح ٹائم لائنز پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے۔
سی ڈی اے کا تمام سیکٹرز کی بحالی و اپ گریڈیشن کا فیصلہ
چیئرمین سی ڈی اے نے مزید ہدایت کی کہ اسلام آباد میں پانی کے بلوں کی بروقت فراہمی کو یقینی بنایا جائے، اس کے علاوہ پانی کے بل ماہانہ بنیادوں پر فوری طور پر صارفین تک پہنچانے کا میکنزم بنایا جائے۔
