نیویارک: اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال تیزی سے قابو سے باہر ہو رہی ہے۔ اور دنیا ایک بڑے اور وسیع تصادم کے خطرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ انتونیو گوتریس نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو ہر صورت کامیاب ہونا چاہیے۔ اور اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل جنگ کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو بھی اپنے پڑوسی ممالک پر حملے فوری طور پر روکنے چاہئیں۔ آبنائے ہرمز کی طویل بندش کے باعث تیل، گیس اور کھاد کی عالمی ترسیل شدید متاثر ہو رہی ہے۔ جو دنیا بھر میں زرعی پیداوار کے اہم موسم کے دوران ایک سنگین بحران کو جنم دے سکتی ہے۔
انتونیو گوتریس نے کہا کہ لبنان کو دوسرا غزہ نہیں بننے دیا جانا چاہیے۔ اور وہاں اسرائیل کی فوجی کارروائیاں فوری طور پر روکی جائیں۔
یہ بھی پڑھیں: سعودی عرب اور امارات کو ایرانی حملوں کے بعد خطرناک سمندری طوفان کا خطرہ
انہوں نے حزب اللہ سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل پر حملے بند کرے تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔ اگر فوری طور پر جنگ بندی اور مذاکرات کا عمل شروع نہ کیا گیا تو موجودہ بحران ایک بڑے علاقائی بلکہ عالمی تنازع میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ جس کے اثرات پوری دنیا پر مرتب ہوں گے۔
