وفاقی وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آ رہی۔
ہم نیوز کے پروگرام’’فیصلہ آپ کا‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پیٹرولیم مصنوعات کا بڑا حصہ پاکستان خلیجی ممالک سے خریدتا ہے،پاکستان 90فیصد پیٹرولیم مصنوعات درآمد کرتاہے۔
حکومت کا پیٹرول پر کوٹہ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ، قیمتوں میں اضافے کا خدشہ
حکومت نے صورتحال کودیکھتے ہوئے کچھ فیصلے کئے ،ان فیصلوں کی وجہ سے ہم اپنی سپلائی چین قائم رکھ سکے ہیں،پاکستان کے پاس اب بھی 26 دن کاسٹاک موجود ہے۔
اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح کے باعث ممکنہ اضافے کی خبروں نے عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آئندہ دو روز میں نئی قیمتوں کے تعین سے متعلق ورکنگ تیار کر کے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گی۔ اس کے بعد حتمی منظوری کے لیے سمری وزیر اعظم شہباز شریف کو بھجوائی جائے گی۔ جس کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔
مطالبات نہ مانے گئے تو پیٹرول پمپ بند کر دیں گے، مالکان کی دھمکی
حکومتی حلقوں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کو ایک ہی بار نافذ کرنے کے بجائے مرحلہ وار نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ جس کے تحت دو ہفتوں کے دوران بتدریج اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ عوام پر اچانک مالی بوجھ کم پڑے۔
دوسری جانب ایک آپشن یہ بھی زیر غور ہے کہ حکومت سبسڈی فراہم کر کے قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے۔ تاہم اس کا انحصار حکومتی مالی گنجائش پر ہو گا۔
