اسلام آباد: ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑے اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ جس سے عوام میں شدید تشویش پائی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ پہلے ہی مہنگائی کی بلند شرح کے باعث ممکنہ اضافے کی خبروں نے عوامی حلقوں میں بے چینی پیدا کر دی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آئندہ دو روز میں نئی قیمتوں کے تعین سے متعلق ورکنگ تیار کر کے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گی۔ اس کے بعد حتمی منظوری کے لیے سمری وزیر اعظم شہباز شریف کو بھجوائی جائے گی۔ جس کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کیا جائے گا۔
حکومتی حلقوں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کو ایک ہی بار نافذ کرنے کے بجائے مرحلہ وار نافذ کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔ جس کے تحت دو ہفتوں کے دوران بتدریج اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ تاکہ عوام پر اچانک مالی بوجھ کم پڑے۔
دوسری جانب ایک آپشن یہ بھی زیر غور ہے کہ حکومت سبسڈی فراہم کر کے قیمتوں کو موجودہ سطح پر برقرار رکھے۔ تاہم اس کا انحصار حکومتی مالی گنجائش پر ہو گا۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پیش کی گئی تھی۔ تاہم حکومت نے اس وقت قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں 70 روپے 73 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: مطالبات نہ مانے گئے تو پیٹرول پمپ بند کر دیں گے، مالکان کی دھمکی
موجودہ صورتحال میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، روپے کی قدر میں کمی اور دیگر معاشی عوامل کے باعث ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
