اسلام آباد: وفاقی حکومت نے ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے پیٹرول پر کوٹہ سسٹم نافذ کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ جس کے لیے ایک خصوصی موبائل ایپ تیار کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس موبائل ایپ کے ذریعے شہری اپنی گاڑی اور شناختی معلومات درج کرکے خود کو سسٹم میں رجسٹر کر سکیں گے۔ رجسٹریشن کے بعد ہر شہری کو اس کی ضرورت اور ملک میں پیٹرول کی دستیابی کے مطابق محدود کوٹہ الاٹ کیا جائے گا۔
حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد پیٹرول کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنا، ہنگامی حالات میں سپلائی کو منظم بنانا اور مارکیٹ میں غیر قانونی ہول سیل یا ذخیرہ اندوزی کے امکانات کو روکنا ہے۔
ایپ کے ذریعے صارفین اپنی گاڑی کے نمبر اور قومی شناختی کارڈ کے ساتھ سسٹم میں شامل ہوں گے۔ جبکہ حکومت ہر رجسٹرڈ صارف کے لیے ذاتی پیٹرول کوٹہ مختص کرے گی۔ اس منصوبے سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ ملک بھر میں پیٹرول کی منصفانہ تقسیم ممکن ہو سکے گی۔ اور صارفین کو بروقت ایندھن دستیاب ہو گا۔
دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 55 روپے جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 75 روپے تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے۔ جس نے عوام میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) آئندہ دو روز میں نئی قیمتوں سے متعلق ورکنگ مکمل کر کے پٹرولیم ڈویژن کو ارسال کرے گی۔ جس کے بعد حتمی منظوری کے لیے سمری وزیر اعظم کو بھجوائی جائے گی۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے بھی پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کی سمری پیش کی گئی تھی۔ تاہم حکومت نے اس وقت قیمتیں برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ کیا گیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: یوٹیوب نے کمائی اور شراکت داری بڑھانے کے لیے نئے ٹولز متعارف کروا دیے
ماہرین کے مطابق اگر کوٹہ سسٹم اور قیمتوں میں اضافہ بیک وقت نافذ کیا گیا تو اس کے اثرات براہ راست عام شہری، ٹرانسپورٹ سیکٹر اور مہنگائی کی مجموعی شرح پر پڑ سکتے ہیں۔
