کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے امریکی شہری ڈینس والٹر کوائل کو ایک سال سے زائد عرصہ حراست میں رکھنے کے بعد رہا کر دیا۔
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق 64 سالہ کوائل کو جنوری 2025 میں کابل سے حراست میں لیا گیا تھا اور اس پر باضابطہ طور پر کوئی واضح الزام عائد نہیں کیا گیا تھا۔
ہیبت اللہ اخونزادہ کی سربراہی میں طالبان قیادت نے عیدالفطر کے موقع پر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہائی کا فیصلہ کیا۔ کوائل کے اہلخانہ کی اپیل اور عدالتی جائزے کے بعد اس کی رہائی کی منظوری دی گئی۔
امریکی حکام نے بھی اس پیشرفت کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ کوائل کی رہائی میں سفارتی کوششوں کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات اور قطر جیسے ممالک نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔
رپورٹس کے مطابق ڈینس کوائل گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے افغانستان میں لسانی تحقیق اور سماجی منصوبوں پر کام کر رہے تھے۔ اور اسی دوران انہیں حراست میں لیا گیا تھا۔
امریکی محکمہ خارجہ نے اس پیشرفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود دیگر امریکی شہریوں کی رہائی کے لیے بھی سفارتی کوششیں جاری رہیں گی۔
یہ بھی پڑھیں: ایران نے ترکیہ کو گیس کی سپلائی معطل کر دی
یہ رہائی ایسے وقت میں عمل میں آئی ہے جب طالبان حکومت اور امریکا کے درمیان قیدیوں اور سفارتی روابط سے متعلق معاملات بدستور حساس نوعیت کے حامل ہیں، تاہم ماہرین کے مطابق یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان محدود سفارتی پیشرفت کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
