امریکی ریاست ٹیکساس کے ساحلی شہر پورٹ آرتھر میں واقع ایک بڑی آئل ریفائنری میں ہونے والے زور دار دھماکے کے بعد فضا میں دھوئیں کے بادل چھا گئے اور قریبی علاقوں کے مکینوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔
شہر کی میئر شارلٹ ایم موسیس کے مطابق والرو ریفائنری میں ہونے والے اس دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ انہوں نے شہر کے مغربی حصے کے رہائشیوں سے اپیل کی کہ وہ گھروں کے اندر ہی رہیں، جبکہ فائر فائٹرز فوری طور پر موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پانے کی کوششوں میں مصروف ہو گئے۔
میئر کا کہنا تھا کہ “دھماکا ضرور ہوا ہے لیکن صورتحال قابو میں ہے اور تمام افراد محفوظ ہیں، آگ کو جلد از جلد بجھانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔”
🚨🇺🇸 The Valero Port Arthur refinery is one of the largest in the United States
The facility processes roughly 395,000 barrels of crude oil per day, making it a critical piece of America’s fuel supply chain.
Port Arthur sits along the Gulf Coast refining corridor that handles… https://t.co/0vFSkU7IRO pic.twitter.com/QSMuT4XORR
— Mario Nawfal (@MarioNawfal) March 24, 2026
ریفائنری شہر ہیوسٹن سے تقریباً 90 میل مشرق میں واقع ہے اور یہاں لگ بھگ 770 ملازمین کام کرتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق یہ پلانٹ روزانہ تقریباً 4 لاکھ 35 ہزار بیرل خام تیل پراسیس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جہاں بھاری خام تیل کو پٹرول، ڈیزل اور جیٹ فیول میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر شیئر ہونے والی ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریفائنری سے آگ کے شعلے اور گہرے دھوئیں کے بادل بلند ہو رہے ہیں، جبکہ کچھ شہریوں نے زور دار دھماکے کی آواز سننے اور کھڑکیوں کے ہلنے کی بھی اطلاع دی۔
شہر انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ “آل کلیئر” کے اعلان تک گھروں میں ہی رہیں اور غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔
ٹیکساس کے ریاستی رکن اسمبلی کرسچن مینوئل کے مطابق ماحولیاتی معیار کے ادارے کے اہلکار بھی موقع پر پہنچ گئے ہیں اور فضا کے معیار کی نگرانی کے لیے آلات نصب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے شہریوں کو ہدایت کی کہ وہ کھڑکیاں اور دروازے بند رکھیں اور مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب عالمی سطح پر تیل کی فراہمی کے حوالے سے ایران جنگ کے باعث غیر یقینی صورتحال پائی جا رہی ہے، جس کے نتیجے میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
