قطر نے ایران کے سفارت خانے میں تعینات ملٹری سیکیورٹی اتاشیوں کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیتے ہوئے 24 گھنٹوں کے اندر ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق یہ فیصلہ ایران کی جانب سے بار بار ہونے والی کارروائیوں کے بعد کیا گیا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید کشیدگی کا امکان ہے۔
دوسری جانب امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے پہلے میزائل حملے کے بعد قطر نے امریکی حکام سے فوری رابطہ کیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق قطر نے امریکی ایلچی، سینٹ کام اور دیگر امریکی عہدیداروں سے وضاحت طلب کی اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ آیا امریکا کو اسرائیلی حملے کی پیشگی اطلاع تھی یا نہیں۔
اگر ضروری سمجھا تو ایران کیخلاف فوجی کارروائی کا حق محفوظ رکھتے ہیں، سعودی وزیرخارجہ
ادھر قطری وزارت داخلہ کے مطابق راس لفان انڈسٹریل سٹی میں آگ بجھانے کا عمل کامیابی سے مکمل کر لیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ راس لفان کے قریب ایک بحری جہاز کو پروجیکٹائل سے نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم صورتحال اب کنٹرول میں ہے۔
حالیہ پیش رفت کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات اور سفارتی تناؤ میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
