اسلام آباد: ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون بھارت فراہم کر رہا ہے۔
کابل میں حالیہ حملے کے حوالے سے پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کا ہدف افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے ذخائر تھے۔
انہوں نے کہا کہ حملے میں افغان طالبان کے ڈرون طیاروں کا ایک ڈپو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اور گولہ بارود پھٹنے سے ہونے والے دھماکے پورے شہر میں محسوس کیے گئے۔ سویلین ہلاکتوں سے متعلق پروپیگنڈا بے بنیاد ہے۔ جبکہ طالبان کے جنگجو اکثر سویلین لباس میں ہوتے ہیں۔ دہشتگرد گروہ منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کے لیے بھی استعمال کرتے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے۔ اور اس کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ افغان طالبان کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے والے ڈرون بھارت فراہم کر رہا ہے۔ پاکستان کی افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں بلکہ دہشتگرد گروہوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ جنہوں نے یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی ہے۔
ترلائی مسجد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس حملے میں نمازی اور معصوم بچے شہید ہوئے اور حملہ آور افغانستان سے آیا تھا۔ اسی طرح وانا کیڈیٹ کالج پر حملے میں مارے گئے پانچوں دہشتگرد بھی افغان تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں اور ان کے انفراسٹرکچر کو نشانہ بناتے ہوئے 81 کارروائیاں کی ہیں۔ اور ان حملوں میں انتہائی احتیاط برتی گئی۔ دہشتگرد تنظیموں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے۔ اور جہاں بھی گولہ بارود کے ذخائر ہوں وہاں حملے کے بعد دھماکے ہونا فطری امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ بعض مطلوب دہشتگرد، جن میں نور ولی، بشیر زیب اور گل بہادر شامل ہیں افغانستان میں موجود ہیں۔ انہوں نے افغان طالبان پر جھوٹے دعوے کرنے اور بعد میں بیانات حذف کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی۔ بلکہ دہشتگردی کی یہ جنگ پاکستان پر مسلط کی گئی ہے۔ اور اس کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی اپنی جانوں کا نذرانہ دے چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغان طالبان رجیم نے دہشتگردوں کو سرکاری عمارتوں میں چھپایا ہوا ہے۔ پہلے ہم بات کرتے تھے تو یہ کہتے تھے صبر کریں، اب یہ کریں صبر۔ تم یہاں پاکستان کے بچوں کو شہید کرو اور ہم تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں؟
یہ بھی پڑھیں: بانی پی ٹی آئی کے بچے نائیکوپ پر پاکستان آ سکتے ہیں، ویزے کی ضرورت نہیں، عطاتارڑ
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے کب بات چیت سے انکار کیا۔ بلکہ ہم نے تو کئی بار ان سے ہر فورم پر بات کی۔ ہم دوست ممالک سے کہتے ہیں آپ گارنٹی دیں، دنیا میں کیا کوئی ان کی گارنٹی دے سکتا ہے؟
