دہشتگرد نیٹ ورک میں لڑکیوں کا جنسی استحصال، ڈاکٹر صبیحہ کا نام سامنے آگیا۔
تفصیلات کے مطابق سکیورٹی اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کر کے خاتون خودکش بمبارکو گرفتارکرلیا جس سے ملک بڑی تباہی سے بچ گیا۔
آپریشن غضب للحق ، پاک افواج کے افغانستان میں کامیاب فضائی حملے
لڑکی کا کہنا تھا کہ مجھے بہکا کر اور استحصال کر کے استعمال کیا گیا،ڈاکٹر صبیحہ پر نوجوان لڑکیوں کی manipulation کے الزامات بھی عائد کئے ۔کمزور حالات کا فائدہ اٹھا کراستحصال کے بعد شدت پسندی کی طرف دھکیلا گیا۔
اعترافی بیان میں لڑکی نے کہا کہ میرا نام لائیبہ ہے مجھے گھر میں اور گاؤں میں لوگ فرزانہ کے نام سے جانتے ہیں ۔گزشتہ سال میرا رابطہ جولائی کے مہینے میں ٹی ٹی پی کے کمانڈر ابراہیم عرف قاضی سے ہوا۔
کمانڈر ابراہیم نے مجھے خودکش حملہ کرنے کے لیے ذہن سازی کی ،کمانڈر ابراہیم کی تنظیمی باتوں سے میں متاثر ہو گئی اور خودکش حملے کے لیے تیار ہو گئی ۔
کمانڈر ابراہیم نے میرا رابطہ دل جان سے کروایا ، جس نے مجھے بی وائی سی کی رہنما ڈاکٹر صبیحہ سے ملوانا تھا،مجھے ٹارگٹ دیا گیا کہ میں مزید لڑکیوں کو اس کام کے لیے تیار کروں۔
آپریشن غضب للحق ، پاکستان کی کارروائی میں 415 افغان طالبان ہلاک ہوئے
کمانڈر دل جان نے مجھ سے ملاقات کرنی تھی اور مجھے اپنے ساتھ کیمپ لے کر جانا تھا۔مجھے خودکش حملے کے لیے جانا تھا لیکن مجھے خضدار پہچنے پر گرفتار کر لیا گیا۔میری ذہن سازی کر کے مجھے استعما ل کرنے کی کوشش کی گئی۔
