بھارت کے شہر وارانسی میں دریا گنگا میں کشتی پر افطار پارٹی کرنے اور چکن بریانی کھانے کے الزام میں 14 مسلمانوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق یہ کارروائی اس وقت عمل میں آئی جب پیر کے روز کشتی پر منعقدہ افطار پارٹی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔
شکایت بھارتیہ جنتا پارٹی کی یوتھ ونگ کے مقامی رہنما راجت جیسوال کی جانب سے درج کروائی گئی، جنہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ اس واقعے سے ہندوؤں کے مذہبی جذبات مجروح ہوئے ہیں۔
All the 14 Muslim men seen on boat Iftar in Varanasi have been arrested. The FIR was registered based on the complaint of Bhartiya Janata Yuva morcha office bearer who accused the arrested men of hurting the religious sentiments. https://t.co/1Z6KnUgu59 pic.twitter.com/HNk2ng9ohN
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) March 17, 2026
شکایت میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ افطار پارٹی کے دوران گوشت کے بچے ہوئے ٹکڑے دریائے گنگا میں پھینکے گئے، جو ہندوؤں کے نزدیک مقدس حیثیت رکھتا ہے۔
پولیس نے ملزمان کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے، جن میں عبادت گاہ کی بے حرمتی، مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور گروہوں کے درمیان نفرت پھیلانے سے متعلق الزامات شامل ہیں۔
An FIR has been registered against 14 Muslim men who, in a video, were seen hosting an Iftar on a boat on the Ganges in Varanasi. pic.twitter.com/Y9HQ97eoOm
— Piyush Rai (@Benarasiyaa) March 17, 2026
اس کے علاوہ عوامی خلل اور آلودگی سے متعلق قوانین کے تحت بھی کارروائی کی گئی ہے۔
