امریکا کے صدارتی دفتر وائٹ ہاؤس کے معاشی مشیر کیون ہیسیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ اہم عالمی گزرگاہ آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع ہوگئی ہے۔
امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیون ہیسیٹ نے کہا کہ وہ پُرامید ہیں کہ ایران سے متعلق جاری جنگ جلد ختم ہو جائے گی، ان کے مطابق یہ تنازع مہینوں تک نہیں بلکہ ممکنہ طور پر۔چند ہفتوں میں ہی اپنے انجام کو پہنچ سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے بغیر پیچھے نہیں ہٹیں گے اور امریکا اس بحران کے حل کیلئے سرگرم ہے۔
یورپی یونین کا امریکا اور اسرائیل سے ایران جنگ ختم کرنے کا مطالبہ
دوسری جانب عالمی بحری تنظیم کے سربراہ نے خبردارکیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر محفوظ بنانا ممکن نہیں، تاہم بحری راستوں کے تحفظ کیلئے بین الاقوامی سطح پر اقدامات جاری ہیں۔
کیون ہیسیٹ نے مزید کہا کہ ایران کی موجودہ صورتحال سے امریکا کی معیشت کو براہ راست نقصان نہیں پہنچ رہا، تاہم یہ خدشہ موجود ہے کہ ایشیائی ممالک امریکا کو تیل فروخت کرنے والی برآمدات میں کمی کرسکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایندھن کی عالمی منڈی کے استحکام کے حوالے سے چین اور امریکا کے مقاصد ایک جیسے ہیں اور دونوں ممالک توانائی کی فراہمی میں تسلسل برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔
