امریکی بحری بیڑے کے طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ پر شدید آگ لگ گئی، جسے بجھانے میں تقریباً 30 گھنٹے صرف ہوئے، اس کا ذکر نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی اخبارات نے کیا ہے۔
آگ کی شدت کے باعث جہاز کے عملے کے 600 سے زائد افراد اپنے معمول کے بستروں اور آرام کے مقامات سے محروم ہو گئے۔
آبنائے ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی آمدورفت دوبارہ شروع، ایران جنگ جلد ختم ہونے کی امید
رپورٹس کے مطابق عملے کومجبوراً جہازکے فرش اورمیزوں پرسونا پڑا جبکہ درجنوں اہلکاردھوئیں کی وجہ سے سانس لینے کے مسائل کا شکار ہوئے اس دوران ہنگامی اقدامات کے باوجود آگ کی شدت اوردھوئیں نے عملے کی مشکلات میں اضافہ کیا۔
اطلاعات کے مطابق جیرالڈ فورڈ طیارہ بردار جہاز گزشتہ 10 ماہ سے مسلسل سمندرمیں موجود ہے اوراس دوران عملے کو جاری مشن اور تربیتی سرگرمیوں کے دوران یہ حادثہ پیش آیا۔
بحری حکام کا کہنا ہے کہ آگ پر قابو پانے کے بعد عملے کی حفاظت اور جہاز کی مرمت کے اقدامات فوری طور پرشروع کر دیے گئے ہیں۔ واقعے سے امریکی بحری بیڑے کی کارکردگی اور عملی منصوبوں پر عارضی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
