وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نرمی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستان کو فائدہ ہو سکتا ہے، جبکہ ملک نے مارچ اور اپریل کے بیشتر حصے کے لیے توانائی کی فراہمی بھی یقینی بنا لی ہے۔
ایکس پر کی گئی ایک پوسٹ میں پاکستان کی معیشت سے متعلق حالیہ مثبت اشاریوں کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں میکرو اکنامک سطح پر بہتری کے واضح آثار سامنے آ رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ فروری 2026 میں پاکستان نے 447 ملین ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ریکارڈ کیا، جو حالیہ عرصے کی بڑی کامیابیوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔
ان کے مطابق براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری میں ماہانہ بنیاد پر 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ترسیلات زر میں 5 فیصد ماہانہ اور مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں 11 فیصد سالانہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ٹی اور ٹیکنالوجی برآمدات فروری میں 365 ملین ڈالر تک پہنچ گئیں، جو سالانہ بنیاد پر 19 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں، جبکہ مالی سال کے ابتدائی 8 ماہ میں یہ برآمدات تقریباً 3 ارب ڈالر رہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 4 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں جس سے درآمدات کے لیے کوریج میں بھی بہتری آئی ہے۔
صنعتی شعبے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں جنوری کے دوران تقریباً 12 فیصد ماہانہ اور 11 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ مجموعی طور پر 7 ماہ میں 6 فیصد اضافہ ہوا۔
خرم شہزاد کے مطابق بیرونی اور علاقائی چیلنجز کے باوجود مضبوط ہوتے معاشی بنیادی اشاریے مستقبل کے لیے بہتر بنیاد فراہم کر رہے ہیں اور ملک کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے میں مدد دے رہے ہیں۔
