جرمن چانسلر فریڈرک مرز نے واضح کیا ہے کہ جرمنی ایران کے خلاف جاری جنگ کا حصہ نہیں بنے گا اور نہ ہی آبنائے ہرمز میں کسی فوجی کارروائی میں شریک ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ جرمنی کا مؤقف بدستور یہی ہے کہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھانے کے بجائے اسے سفارتی اور حکمت عملی کے ذریعے ختم کیا جانا چاہیے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جرمن چانسلر کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگی کارروائیوں سے قبل جرمنی سے کوئی باضابطہ مشاورت نہیں کی۔
ٹرمپ نے چین، جاپان اور دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کھلوانے کیلئے دوبارہ مدد مانگ لی
ان کے مطابق جب تک اس معاملے پر یورپی اتحادیوں اور نیٹو شراکت داروں کے درمیان مشترکہ فیصلہ نہیں ہوتا، جرمنی کی جانب سے کسی فوجی مداخلت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
فریڈرک مرز نے کہا کہ جرمنی خطے کو ایک طویل اور لامتناہی جنگ میں دھکیلنے کے حق میں نہیں ہے، موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اورعالمی برادری کو مل کر ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جو کشیدگی میں کمی لائیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران سے متعلق بحران کو طاقت کے بجائے حکمت عملی، سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنا ضروری ہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں مزید عدم استحکام پیدا نہ ہو، جرمنی خطے میں امن اور استحکام کے لیے سفارتی کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
