امریکی وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا متوقع دورہ چین طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوگا یا نہیں، اس حوالے سے حتمی فیصلہ خطے کی صورتحال کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدرکے درمیان متوقع ملاقات میں اگر تاخیر ہوتی ہے تو اس کا براہ راست تعلق آبنائے ہرمز کی صورتحال سے نہیں ہوگا۔
ان کے مطابق ملاقات مؤخر ہونے کی صورت میں بنیادی وجہ ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال ہو سکتی ہے۔
ایران جنگ کے اثرات پاکستان تک پہنچ گئے، محکمہ موسمیات کا بڑا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں پیدا ہونے والی تازہ صورتحال کے باعث صدر ٹرمپ اپنے سفری شیڈول پر نظر ثانی بھی کر سکتے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق اگرایران سے متعلق حالات مزید پیچیدہ ہوئے تو صدرٹرمپ ممکنہ طور پرامریکا میں ہی قیام کو ترجیح دے سکتے ہیں تاکہ صورتحال کی براہ راست نگرانی کی جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکی انتظامیہ خطے کی صورتحال پرمسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور تمام فیصلے قومی مفاد اور سکیورٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے کیے جائیں گے۔
