امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر چین، جاپان اور دیگر ممالک سے آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے اور اسے کھلا رکھنے کے لیے مدد کی اپیل کر دی ہے۔
واشنگٹن میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا ایران کے دفاعی نظام کو تیزی سے تباہ کر رہا ہے اور آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والی کئی ایرانی کشتیاں ڈبو دی گئی ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے امریکا کو صرف ایک فیصد تیل ملتا ہے جبکہ چین، جاپان اور دیگر ممالک کا بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔
ان کے مطابق چین کا تقریباً 90 فیصد اور جاپان کا 95 فیصد تیل اسی اہم گزرگاہ سے آتا ہے جبکہ کوریا کے تیل کی بڑی مقدار بھی اسی راستے سے منتقل ہوتی ہے۔
ٹرمپ ایران میں حکومت کی تبدیلی چاہتا تھا جو وہ نہیں کرسکا، خرم دستگیر
انہوں نے کہا کہ جن ممالک کے تیل کی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی ہے انہیں آگے آ کر اس گزرگاہ کے تحفظ کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اور بحری بیڑے بھیجنے چاہئیں۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ امریکی کارروائیوں کے بعد ایران کے بیلسٹک میزائل اور ڈرون حملوں میں 90 فیصد کمی آ چکی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ امریکی افواج نے ایران کے 100 سے زائد بحری جہاز تباہ کر دیے ہیں جبکہ ایران کی بحری فوج کو تقریباً مکمل طور پر مفلوج کر دیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق ایران میں 7 ہزار سے زائد کمرشل اور فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے اور ایران کے دفاعی صنعتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا ایران کی ڈرون اور میزائل بنانے کی صلاحیت کو بھی جارحانہ انداز میں ختم کر رہا ہے تاکہ ایران دوبارہ ایسی صلاحیت حاصل نہ کر سکے۔
ٹرمپ کے مطابق امریکی فوج نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں بچھانے والے تقریباً 30 بحری جہازوں کو تباہ کیا ہے، تاہم یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں مکمل طور پر بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ ایران کی فوجی طاقت اب مکمل طور پر کمزور ہو چکی ہے اور وہ اب صرف نام کا شیر رہ گیا ہے۔ ان کے بقول ایک ہفتہ پہلے تک ایران کو طاقتور سمجھا جاتا تھا لیکن امریکی کارروائیوں کے بعد اس کی عسکری صلاحیت بہت حد تک ختم ہو چکی ہے۔
ایران نے مسلم امہ اور مسلم ممالک کی حکومتوں کیلئے 6نکاتی پیغام جاری کردیا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی، تاہم امریکا کے پاس تیل کے وسیع ذخائر موجود ہیں اور امریکا اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں تقریباً دگنا تیل پیدا کر رہا ہے اور جلد یہ پیداوار تین گنا تک پہنچ سکتی ہے۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ جزیرہ خارگ پر موجود ایرانی فوجی اہداف کو مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہاں مزید حملے بھی کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کا بحری اور فضائی دفاع تقریباً ختم ہو چکا ہے اور ایران کی پوری بحریہ کے 44 بحری جہاز سمندر میں ڈبو دیے گئے ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ فی الحال ایران کی تیل تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا گیا، لیکن تمام آپشنز بدستور موجود ہیں۔
امریکی صدر نے شکوہ کیا کہ کچھ ممالک آبنائے ہرمز کے معاملے میں تعاون کے لیے زیادہ پرجوش نظر نہیں آ رہے حالانکہ امریکا گزشتہ چار دہائیوں سے کئی ممالک کے دفاع اور سلامتی کے لیے کردار ادا کرتا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا دیگر ممالک کو بھرپور حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ اس اہم سمندری گزرگاہ کے تحفظ کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام کریں۔
