عالمی مارکیٹ میں پیٹرول و ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہو گیا۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پیٹرولیم کا اجلاس سینیٹر منظور احمد کی زیر صدارت ہوا جس میں ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں سیکرٹری پیٹرولیم نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث پیٹرولیم کی سپلائی متاثر ہوئی ہے کیونکہ پاکستان کو تقریباً 70 فیصد پیٹرولیم اسی خطے سے حاصل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں جہازوں کی آمد و رفت بھی متاثر ہوئی ہے۔
بریفنگ کے مطابق ہائی اسپیڈ ڈیزل کی عالمی قیمت 88 ڈالر سے بڑھ کر 187 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 74 ڈالر سے بڑھ کر 130 ڈالر فی بیرل ہو چکی ہے۔ سیکرٹری پیٹرولیم نے کہا کہ عام حالات میں عرب ممالک سے تیل کی سپلائی 4 سے 5 دن میں پاکستان پہنچ جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت موجودہ ذخائر کے استعمال کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے اور اب یورو 5 معیار سے کم کوالٹی کے تیل کی درآمد کی اجازت دی گئی ہے۔
پیٹرولیم مصنوعات کے بعد ایل پی جی کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
اجلاس کو بتایا گیا کہ وزیر اعظم کی قائم کردہ وزارتی کمیٹی روزانہ پیٹرولیم مصنوعات کی صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے۔ اس وقت ملک میں خام تیل کے ذخائر تقریباً 11 دن، ڈیزل کے 21 دن، پیٹرول کے 27 دن، ایل پی جی کے 9 دن جبکہ جے پی ون کے ذخائر 14 دنوں کیلئے موجود ہیں۔
