امریکا کے اعلیٰ اقتصادی مشیر نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ پر امریکا اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسٹ نے انٹرویو کے دوران ابتداء میں یہ تاثر دیا کہ یہ پورے جنگی مرحلے کا متوقع مجموعی خرچ ہے، تاہم بعد میں کہا کہ یہ اب تک کے اخراجات کی تازہ ترین معلومات ہیں۔
اگر امریکا میں ہمت ہے تو اپنے جہاز خلیج فارس میں لے آئے، ایران
امریکی میڈیا کے مطابق جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں اسلحے اور گولہ بارود پر 5 ارب ڈالرز سے زائد خرچ کیے گئے تھے۔
ہیسٹ کا کہنا ہے کہ ایران کے اقدامات سے امریکی معیشت کو زیادہ نقصان نہیں ہو گا کیونکہ امریکا اب تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے، عالمی منڈیاں بھی اس جنگ کے جلد خاتمے اور توانائی کی قیمتوں میں کمی کی توقع کر رہی ہیں۔
